سوڈان: 10 روز کے دوران 7 ڈاکٹرز کرونا سے ہلاک
سوڈان میں 10 روز کے دوران سات ڈاکٹرز کرونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی ہلاکت ملک میں حالیہ ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
سوڈان کی وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ساتوں ڈاکٹروں نے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج، مرض کے پھیلاؤ کو روکنے اور سوڈانی عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے انتھک محنت کی۔
حکومت نے اس حادثے کو بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے وبائی مرض کے خلاف مقابلہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ ساتھ ہی ڈاکٹروں کو حقیقی ہیرو قرار دیا جو اپنے لوگوں کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
گزشتہ ماہ بھی سوڈان میں کرونا وائرس سے تقریباً 100 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی تھیں۔
کرونا ویکسین پاکستان میں کب ملے گی؟
کرونا وائرس کی ویکسین مارکیٹ میں کب آئے گی؟ پاکستان میں کب دستیاب ہو گی؟ اور سب سے پہلے کن لوگوں کو دی جائے گی؟ کیا پاکستان کے پاس بڑے پیمانے پر ویکسین خریدنے کے وسائل ہیں؟ جانیے ان تمام سوالوں کے جوابات اور ویکسین سے متعلق مزید معلومات وائس آف امریکہ کے نئے سلسلے 'آن لائن کلینک' کی پہلی قسط میں۔
مسافروں کو سفر سے پہلے کرونا ویکسین لینے کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا: قنطاس
آسٹریلیا کی فضائی کمپنی قنطاس کا کہنا ہے کہ اس کے جہازوں میں سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کو جہاز پر سوار ہونے سے قبل یہ ثبوت فراہم کرنا ہو گا کہ وہ کرونا وائرس کی ویکسین لے چکے ہیں۔
قنطاس کے چیف ایگزیکٹو ایلن جوئس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے خیال میں مستقبل میں سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کے لیے ویکسین لینے کا ثبوت فراہم کرنا ضروری ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اندرونِ ملک سفر کرنے والوں کے لیے بھی ایسا کرنا ضروری ہو گا یا نہیں۔
ایلن جوئس کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کے اہلکاروں سے مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ویکسین لینے کا ثبوت فراہم کرنا مستقبل میں معمول کی بات ہو گی۔
خدشہ ہے کہ اس اقدام کی مخالفت کرنے والوں کی طرف سے فضائی کمپنی کو مقدمات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کیا آپ کرونا وبا کی وجہ سے ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہیں؟
کرونا کی عالمی وبا کی غیر یقینی صورتِ حال اور فکر کے ماحول سے اگر آپ اکتا گئے ہیں تو آپ تنہا نہیں ہیں۔ یہی اکتاہٹ ہمیں وائرس سے لاحق خطرات سے لاپرواہ بھی کر رہی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم کسی صورت کرونا وائرس کے خلاف لاپرواہی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔