عالمی ادارۂ صحت کا کرونا ویکسین کی مساوی تقسیم پر زور
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بین الاقوامی برادری سے کرونا ویکسین کی عالمی سطح پر اسی طرح برابری کی سطح پر فراہمی کی درخواست کی ہے جس طرح اس کی تیاری کے لیے کوشش کی گئی ہے۔
جینیوا میں پریس بریفنگ میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہنم گیبراسس نے امریکہ اور جرمنی کی دوا ساز کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی مشترکہ کوششوں سے حالیہ تیار کردہ ویکسین کی تعریف کی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سائنسی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تاریخ میں کوئی بھی ویکسین اس قدر جلدی تیار نہیں ہوئی جتنی جلد کرونا کی ویکسین کو تیار کیا گیا ہے۔ ان کے بقول سائنسی برادری نے ویکسین کی تیاری کے لیے ایک نیا معیار متعین کر دیا ہے۔
اسپین کے بادشاہ نے خود کو قرنطینہ کر لیا
اسپین کے بادشاہ فلیپ ششم کے قریبی ساتھی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔
بادشاہ کے محل کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جس ساتھی کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے وہ بادشاہ سے رابطے میں تھا جس کے بعد 52 سالہ کنگ فلیپ ششم نے خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیا ہے۔
بیان کے مطابق بادشاہ کی اگلے 10 روز تک تمام سرکاری سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ تاہم ملکہ لیٹیزا اور ان کی بیٹیاں لیونور اور صوفیہ معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔
یاد رہے کہ اسپین میں 15 لاکھ 82 ہزار سے زیادہ کیسز اور 43 ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہو چکی ہیں اور وہ عالمی وبا سے متاثرہ ملکوں کی فہرست میں شامل ابتدائی دس ملکوں میں شامل ہے۔
پاکستان میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، ان ڈور ڈائننگ پر پابندی
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کرونا وبا کی روک تھام کے لیے مزید فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ریستورانوں میں ان ڈور ڈائننگ پر پابندی ہو گی۔ تاہم اوپن ایئر سروس کی اجازت ہو گی۔
قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کی بندش اور اجتماعات پر پابندی کی بھی منظوری دی گئی۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر پہلی لہر کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو آئندہ دو ہفتوں میں ملک میں جون جیسے حالات ہو سکتے ہیں۔
کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کتنی مؤثر اور مفید ہے؟
ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے کرونا وائرس کی ویکسینز کے 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ہونے کا دعویٰ لوگوں میں امید تو پیدا کر رہا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ سائنٹیفک کمیونٹی کی جانب سے ڈیٹا کے تجزیے کے بغیر یہ محض کسی کمپنی کے اپنی پروڈکٹ کے بارے میں بلند و بانگ دعوؤں سے کم نہیں۔ صبا شاہ خان کی رپورٹ۔