بھارت میں ہر فرد کو ویکسین دینے کی ضرورت نہیں: حکام
انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگو نے کہا ہے کہ اگر بھارت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے اپنی ایک ارب 30 کروڑ آبادی کو ویکسین دینے کی ضرورت نہیں۔
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ویکسین بنانے والی تین کمپنیوں کے تفصیلی جائزے کے بعد ویکسین کی اہمیت پر زور دیا تھا جب کہ اکتوبر میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت جیسے ہی ویکسین تیار کرتی ہے، ہر شہری تک اس کی رسائی ممکن بنا دی جائے گی۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے سرِ فہرست بیوروکریٹ راجیش بھوشن نے بھی منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ بھارت کی تمام آبادی کو ویکسین دینا ہو گا۔
عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے عندیہ دیا تھا کہ 65 سے 70 فی صد تک ویکسین بھارت کی پوری آبادی کے لیے کافی ہو گی۔
یاد رہے کہ بھارت کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے 94 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
امریکہ میں ویکسین کی ترسیل کی تمام تیاریاں مکمل
امریکہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کرونا ویکسین کی بحفاظت اور فوری ترسیل کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
منگل کو محکمے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ایجنسیز نجی شعبے کے اشتراک سے ویکسین کی خوراکیں، تیاری کے مقامات سے ڈسٹری بیوشن پوائنٹس تک پہنچائیں گی۔
محکمے کا کہنا ہے کہ ویکسین کی ترسیل کے دوران درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے اور ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے خشک آئس اور لیتھیم بیٹریز کا استعمال کیا جائے گا۔
محکمے کا کہنا ہے کہ جنوری تک چار کروڑ امریکیوں تک ویکسین کی خوارکیں پہنچائیں جائیں گی جب کہ ہر ماہ دو کروڑ افراد تک ویکیسن پہنچائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ہیلتھ کیئر ورکرز اور بزرگ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔
خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' نے ویکسین کی منظوری کے لیے امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے رجوع کر رکھا ہے۔
جرائم پیشہ عناصر کرونا کی جعلی ویکسین تیار کر سکتے ہیں: انٹرپول کا انتباہ
جرائم کی روک تھام کے لیے سرگرم انٹرنیشنل پولیس 'انٹرپول' ںے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر منظم جرائم کے گروہ کرونا کی جعلی ویکسین فروخت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
بدھ کو فرانس میں انٹرپول کے ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ بیان کے مطابق تمام 194 رُکن ممالک کو اس خطرے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
انٹرپول کا کہنا ہے کہ منظم گروہ جعلی ویکسین کی آن لائن فروخت کی بھی کوشش کر سکتے ہیں۔
انٹرپول کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب مختلف ممالک کرونا ویکسین کی ترسیل شروع کرنے والے ہیں، ایسے میں جرائم پیشہ گروہ بھی سپلائی چین میں خلل ڈالنے کے علاوہ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر جعلی ویکسین کی تشہیر کر سکتے ہیں۔
انٹرپول کا کہنا ہے کہ ان جرائم پیشہ افراد کے مذموم مقاصد سے لوگوں کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں پانچ ماہ بعد یومیہ ساڑھے تین ہزار کیسز رپورٹ
پاکستان میں وبا کے پھیلاؤ میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے اور پانچ ماہ بعد یومیہ ساڑھے تین ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3499 افراد کے وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 51 ہزار 654 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں وبا سے لگ بھگ چار لاکھ سات ہزار افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے تین لاکھ 47 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 8205 اموات ہوئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق زیرِ علاج 51 ہزار 654 افراد میں سے 2469 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔