امریکہ میں کرونا ویکسین کی منظوری کی درخواستیں زیرِ غور
امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کرونا وائرس کے خلاف ویکسین کے عام استعمال سے متعلق فیصلہ آئندہ چند روز دے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ویکسین کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری نئی بات نہیں اور کرونا ویکسین کی تیاری کے مراحل میں حکام کو مستقل اعتماد میں لیا گیا ہے۔ صبا شاہ خان کی رپورٹ۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کا نیوزی لینڈ میں قرنطینہ کا مشکل وقت گزر گیا
نیوزی لینڈ کے دورے پر موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کے سفر کا تکلیف دہ مرحلہ اب ختم ہو گیا ہے۔ تقریباً دو ہفتے آئسولیشن یعنی قرنطینہ میں رہنے کے بعد کھلاڑیوں کو ٹریننگ کا پروانہ مل گیا جس کے بعد 53 میں سے 52 ارکان کرائسٹ چرچ سے کوئنز ٹاؤن منتقل ہو جائیں گے جہاں اُن پر ایس او پیز لاگو نہیں ہوں گے۔
پاکستان ٹیم کو ٹریننگ کی اجازت ملنا اس لیے خوش آئند ہے کہ ایک موقع پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ مہمان ٹیم ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ سیریز کھیلے بغیر ہی وطن واپس لوٹ جائے گی۔
نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے مطابق اتوار کو پاکستانی اسکواڈ کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا تاہم ایک کھلاڑی اب بھی اپنی آئسولیشن کی مدت کرائسٹ چرچ ہی میں پوری کرے گا اور مدت مکمل کرتے ہی جمعرات کو کوئنز ٹاؤن میں موجود اسکواڈ جوائن کر لے گا۔
برطانیہ: کرونا ویکسین کے استعمال کا آغاز، طبی عملہ اور بزرگ پہلی ترجیح
برطانیہ میں شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا عمل منگل سے شروع کر دیا گیا ہے جب کہ حکام نے اس دن کو 'وکٹری ڈے' قرار دیا ہے۔
منگل کی صبح 90 سالہ معمر خاتون مارگریٹ کینن کو سب سے پہلے کرونا ویکسین لگائی گئی جب کہ صبح سویرے پرُخطر ماحول میں خدمات جاری رکھنے والے ہیلتھ ورکرز اور سماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ اسٹاف کے 80 سے زیادہ افراد ویکسین لگوانے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔
منگل کو پہلی خوراک لینے والوں کو دوسری خوارک 21 دن بعد دینا ضروری ہے۔
برطانیہ، گزشتہ ہفتے دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جب اس نے 'فائزر اور بائیو این ٹیک' کی تیار کردہ ویکسین کی منظوری دی تھی۔
برطانیہ میں سب سے پہلے جو لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں ان میں نیشنل ہیلتھ سروس، نرسنگ ہومز میں موجود معمر افراد اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ شامل ہے۔
بھارت میں کرونا وائرس کا شکار خاتون کی انوکھی شادی
بھارت میں ایک خاتون کی شادی سے کچھ گھنٹے قبل ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آ گیا لیکن انہوں نے شادی ملتوی نہ کی بلکہ قرنطینہ مرکز میں ہی شادی کی تقریب منعقد کر لی۔ دُلہے اور دلہن نے عروسی ملبوسات کے بجائے حفاظتی لباس زیبِ تن کیے۔ شادی کے بعد نو بیاہتا جوڑا آئسولیشن میں ہے۔