پاکستان میں کرونا سے مزید 36 اموات
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 36 مریض دم توڑ گئے ہیں جب کہ وائرس کے 2362 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کرونا کے 31830 ٹیسٹ کیے گئے۔
پاکستان کرونا سے مجموعی اموات 8832 ہو گئی ہیں جب کہ کیسز کی تعداد چار لاکھ 40 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں اب تک 60 لاکھ سے زائد کرونا ٹیسٹس کیے گئے ہیں جب کہ وائرس سے اب تک تین لاکھ 84 ہزار مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔
امریکہ میں آج سے کرونا ویکسینیشن کا آغاز
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ میں آج سے شہریوں کو کرونا ویکسین لگانے کا آغاز ہو رہا ہے۔
امریکی حکام نے دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمن کمپنی 'بائیو این ٹیک' کے اشتراک سے بنائی گئی کرونا ویکسین کی منظوری دی تھی جس کے بعد ویکسین کی پہلی کھیپ اتوار کو ریاست مشی گن میں واقع 'فائزر' کی فیکٹری سے ٹرکوں کے ذریعے مقامی ایئر پورٹ تک پہنچائی گئی۔
ویکسین، شپنگ کمپنیز ‘یو پی ایس' اور 'فیڈ ایکس' کے ٹرکوں کے ذریعے مختلف ریاستوں میں قائم لگ بھگ 150 ڈسٹری بیوشن سینٹرز میں پہنچائی جا رہی ہے۔ ویکسین کو محفوظ رکھنے کے لیے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ضروری ہے جس کے لیے ویکسین کو خصوصی فریزر میں رکھا گیا ہے۔
پہلی کھیپ میں 30 لاکھ خوارکیں ملک بھر میں قائم ڈسٹری بیوشن سینٹرز میں پہنچائی جا رہی ہے۔
ابتداً طبی عملے اور نرسنگ ہومز میں مقیم معمر افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔
خیال رہے کہ اس عالمی وبا سے امریکہ میں لگ بھگ تین لاکھ افراد ہلاک اور ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کرونا ویکسین کی اتنی ہی خوراکیں، ویکسین کی پہلی خوراک وصول کرنے والوں کی دوسری خوراک کے لیے رکھی جائیں گی جو کہ کرونا وائرس سے مکمل طور پر محفوظ رہنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔
نو منتخب امریکی صدر کی حلف برداری میں کیا مختلف ہو گا؟
امریکہ میں 20 جنوری کو ہونے والی نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں جاری ہیں۔ لیکن کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث یہ تقریب ماضی کے مقابلے میں خاصی مختلف ہو سکتی ہے۔ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
امریکہ: اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کو ویکسین فراہم کرنے کا فیصلہ واپس
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ حکومتی عہدے داروں کو 'کووڈ 19' کی ویکسین پہلے مرحلے میں لگانے کا فیصلہ واپس لے رہے ہیں۔ کیوں کہ ابھی ویکسین کی محدود فراہمی کی وجہ سے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے طبی عملے اور نرسنگ ہوم میں موجود لوگوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ اعلان اتوار کو ٹوئٹ کے ذریعے کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ ٹوئٹ ایسے موقع پر کیا جب چند گھنٹے قبل ہی ان کی انتظامیہ نے تصدیق کی تھی کہ صدر سے رابطے میں رہنے والے وائٹ ہاؤس کے مشیر، نائب صدر مائیک پینس اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو اسی ہفتے کرونا ویکسین لگوانے کی پیش کش کی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ وائٹ ہاؤس میں کام کرنے والے افراد کو ویکسین بعد میں دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ کسی کے لیے ویکسین لگوانا بہت ضروری نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ میں نے یہ تبدیلیاں کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ابھی میرا نام بھی ویکسین لگوانے والوں میں شامل نہیں ہے۔ لیکن مناسب وقت آنے پر میں ویکسین ضرور لگواؤں گا۔