جنوبی کوریا: وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسکول بند کرنے کا حکم
جنوبی کوریا نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دارالحکومت سول اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اسکول بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسکولوں کی بندش کا حکم منگل سے نافذ العمل ہو گا۔
جنوبی کوریا میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی شدت ملک میں رواں سال فروری میں آنے والی پہلی لہر سے بھی زیادہ ہے۔
سول اور اس کے نواحی علاقوں کے اسکول رواں ماہ کے آخر تک آن لائن کلاسز کے ذریعے تدریسی عمل جاری رکھیں گے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی کوریا میں پیر کو کرونا وائرس کے 718 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ایک روز قبل ریکارڈ 1030 کیسز سامنے آئے تھے۔
زیادہ تر کیسز دارالحکومت سول سے سامنے آئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں وبا کے آغاز سے لے کر اب تک 43 ہزار سے زائد لوگ 'کووڈ 19' میں مبتلا ہو چکے ہیں جب کہ کرونا وائرس سے 587 اموات بھی ہو چکی ہیں۔
سنگاپور نے بھی 'فائزر' ویکسین کی منظوری دے دی
سنگا پور، امریکی و جرمن دواساز اداروں 'فائزر' اور 'بائیو این ٹیک' کی تیار کردہ ویکسین کی منظوری دینے والا ایشیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔
سنگاپور حکام کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں ویکسین کی ترسیل شروع کر دی جائے گی۔ سب سے پہلے سنگا پور کے وزیر اعظم کو ویکسین لگائی جائے گی جس کے بعد 57 لاکھ نفوش پر مشتمل آبادی کو ویکسین لگائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگلے سال مارچ تک سنگا پور کے تمام شہریوں کو ویکسین دستیاب ہو گی۔
حکومت نے 'فائزر' کے علاوہ امریکی کمپنی 'موڈرنا' اور 'سینوویک' کے ساتھ بھی ویکسین کی خریداری کے پیشگی معاہدے اور بیانہ دے رکھا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا پہلے ہی فائزر ویکسین کی منظوری دے چکے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں لوگوں کو ویکسین لگانے کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 73 ہلاکتیں، 2459 نئے کیس
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 2459 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مہلک وائرس سے 73 افراد دم توڑ گئے ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق پاکستان میں کیسز کی مجموعی تعداد چار لاکھ 43 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
ملک میں اب تک مجموعی طور پر 61 لاکھ کے لگ بھگ کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 34 ہزار 551 ٹیسٹ کیے گئے۔
پاکستان میں 2495 مریض انتہائی نگہداشت وارڈز میں زیرِ علاج ہیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایسے 39 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔
کرونا وائرس: انسانی حقوق کی تنظیموں کا پاکستان میں قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ
انسانی حقوق کی تنظیموں نے پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر کے دوران اس وبا کے پاکستان کی جیلوں میں پھیلاؤ کےخطرے کے پیش نظر حکومت سے پاکستان کی مختلف جیلوں میں بعض قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مختلف جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود ہیں۔
پاکستان میں طبی ماہرین کی جانب سے کرونا وائرس کی دوسری لہر کو خطرناک قرار دیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کی جیلوں میں موجود قیدیوں میں اس وبا کی پھیلاؤ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے جہاں سماجی فاصلہ اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ایک چیلنج ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمسنٹی انٹرنیشنل اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے پیر کو جاری ہونے والے اپنی ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں رواں سال کے اوائل میں کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی تعداد کو کم کرنے کے ضرورت کے باوجود پاکستان کی جیلوں میں اس دوران قیدیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔