رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:27 24.12.2020

111: پاکستان میں کرونا کے سبب چھ ماہ کے عرصے میں ایک دن کی ریکارڈ اموات

پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کہ گزشتہ چھ ماہ میں کسی ایک دن میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے 30 جون کو 118 اموات ہوئی تھیں۔ جب کہ اس کے بعد اموات کی شرح میں بتدریج کمی آئی اور رواں ماہ تک کسی بھی دن 100 یا اس سے زائد اموات نہیں ہوئیں۔

رواں ماہ 15 دسمبر کو 105 اموات ہوئی تھیں۔ جب کہ گزشتہ روز وبا سے مزید 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ چھ ماہ میں ایک دن میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک 9668 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں ایک دن میں سب سے زیادہ 153 اموات 20 جون کو ہوئی تھیں۔

13:58 24.12.2020

کرونا کے دور میں کرسمس کی تیاریاں

دنیا بھر میں کرونا وبا کی وجہ سے عائد سماجی پابندیوں کے باعث کرسمس کے رنگ بھی پھیکے پڑ گئے ہیں۔ تاہم لوگ احتیاطی تدابیر کے تحت کرسمس کی خوشیاں منانے کے لیے پرجوش ہیں۔

13:59 24.12.2020

کرونا کی 'تشخیص' کے لیے چلی کے ایئر پورٹ پر کتے تعینات

چلی کے ایک ہوائی اڈے پر مسافروں میں کرونا کی علامات کا سراغ لگانے کے لیے کتے تعینات کر دیے گئے ہیں جو آنے جانے والے مسافروں کے سامان کو سونگھ کر کرونا وائرس کا سراغ لگاتے ہیں۔

چلی کے سینٹیاگو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر مسافر صحت کاؤنٹرز پر خصوصی پیڈز رکھے گئے ہیں۔ مسافر اپنی ناک، گردن اور کلائیوں کو اس سے پونچھ کر شیشے کے ایک ڈبے میں ڈال دیتے ہیں جس کے بعد ان سراغ رساں کتوں کا کام شروع ہوتا ہے۔

'گولڈن ریٹریورز' اور 'لیبرا ڈورز' نسل کے یہ کتے ایئر پورٹ پر کرونا کی تشخیص کے لیے حکام کے لیے کافی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

نشان دہی ہونے پر متاثرہ شخص کو حکام علاج معالجے کی غرض سے اسپتال یا قرنطینہ کے لیے لے جاتے ہیں۔

مزید جانیے

14:02 24.12.2020

صدر ٹرمپ کا کرونا ریلیف بل میں بعض تبدیلیوں کے بغیر دستخط سے انکار

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ سال کے آخر پر امریکی قانون سازوں کے منظور کردہ اس بل پر دستخط نہیں کریں گے جس میں نو سو ارب ڈالر کا کرونا وائرس سے متعلق امدادی پیکج اور 1400 ارب ڈالر کی سالانہ حکومتی فنڈنگ بھی شامل ہے۔

ٹرمپ نے منگل کی رات ایک ویڈیو ٹوئٹ میں کہا کہ زیادہ تر امریکیوں کے لیے صرف 600 ڈالر کی امداد ناکافی ہے۔

صدر کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس سے کہیں گے وہ ایک جوڑے کے لیے 600 ڈالر کی امداد کو بڑھا کر دوہزار یا چار ہزار تک لے جائیں۔

صدر کا کہنا تھا "میں کانگریس سے کہوں گا کہ اپنے منظور کردہ بل سے غیر ضروری اور بے کار چیزیں نکال کر مجھے ایک مناسب بل ارسال کرے۔"

ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں نے پیر کو رات گئے بھاری حمایت کے ساتھ یہ بل منظور کیا تھا۔ اراکین کے پاس پانچ ہزار صفحات پر مشتمل بل کی منظوری کے لیے محض چند گھنٹے تھے۔

صدر ٹرمپ سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اس بل پر آئندہ چند دنوں میں دستخط کر دیں گے۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG