پاکستان میں مزید 85 افراد ہلاک، دو ہزار سے زائد نئے کیسز
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 2152 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ 85 اموات ہوئی ہیں۔
ملک میں کرونا وائرس کے ایکٹو کیسز کی تعداد 38 ہزار 511 ہو گئی ہے۔ کرونا وائرس کے چار لاکھ 67 ہزار مجموعی مریضوں میں سے چار لاکھ 18 ہزار لوگ صحت یاب ہو گئے ہیں جب کہ نو ہزار 700 سے زائد لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی کا انکشاف
پاکستان کے وزیرِ اعظم کی کرونا ٹاسک فورس کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عطاالرحمٰن کا کہنا ہے کہ کراچی میں کرونا وائرس کے کچھ نمونوں میں اسپائیک پروٹین سے متعلق تبدیلیاں پائی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں کرونا وائرس کے مریضوں کے 48 نمونوں میں 109 تبدیلیوں کی نشاندہی ہوئی ہے اور ان میں کچھ تبدیلیاں اسپائیک پروٹین سے تعلق رکھتی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے کہا کہ ہم نے کرونا وائرس کے جینیٹک اسٹرکچر کا حالیہ دنوں میں جائزہ لیا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ کچھ جینز میں ایسی تبدیلیاں ہوئی ہیں جو پروٹین سپائیک بناتی ہیں۔
پاکستان میں دریافت ہونے والی تبدیلیاں ان جینز سے مختلف ہیں جو برطانیہ میں پائی گئی ہیں۔ پاکستان میں پائی جانے والی جینیاتی تبدیلیاں اگرچہ برطانیہ جیسی نہیں ہیں لیکن ان دونوں میں مطابقت پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں جینز سپائیک پروٹین پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان دونوں میں مطابقت ہے، لیکن ان کی مکمل شناخت فی الحال ممکن نہیں ہے۔ ان جینز میں میوٹیشن سپائیک پروٹین پر اثرانداز ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 48 کیسز میں یہ ریسرچ کی ہے اور ان میں سے کئی کیسز میں یہ نئی جنیاتی تبدیلیاں دریافت کی گئی ہیں۔
کرونا وائرس کے دور میں سانتاکلاز کا دورہ بھی ورچوئل ہو گیا
ہر سال کرسمس کے موقع پر دنیا بھر میں بہت سے بچے سانتاکلاز سے ملتے ہیں۔ اسے بتاتے ہیں کہ انہیں کون سے تحفے چاہئیں۔ سانتاکلاز کے ساتھ تصویریں بنائی جاتی ہیں۔ لیکن اس سال عالمی وبا کی وجہ سے امریکہ میں سانتاکلاز کا دورہ بھی ورچوئل ہو رہا ہے۔ تاکہ بچے مایوس نہ ہوں اور کرونا وائرس سے بھی بچ سکیں۔
برطانیہ سے امریکہ آنے والوں پر کرونا ٹیسٹ منفی ہونے کی شرط عائد
برطانیہ سے امریکہ آنے والے تمام لوگوں کو اب کرونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی کرانا ہوگا اور نتائج منفی آنے کی صورت میں ہی وہ امریکہ کا سفر کر سکیں گے۔
کرونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر امریکہ نے برطانیہ سے آنے والے تمام لوگوں پر کرونا ٹیسٹ منفی ہونے کے بعد ہی سفر کرنے کی شرط عائد کر دی ہے۔ سفر سے 72 گھنٹے قبل کی ٹیسٹ رپورٹ ہی قابلِ قبول ہو گی۔
امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے ادارے 'سی ڈی سی' نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ سے امریکہ آنے والی تمام ایئر لائنز کے مسافروں کے پاس کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ ہونا لازم ہے۔
یہ فیصلہ برطانیہ میں کرونا وائرس کی ایک نئی قسم دریافت ہونے کے بعد کیا گیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے موجود کرونا وائرس سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ لیکن عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ وائرس کی نئی قسم کا پھیلاؤ زیادہ تیز ہے۔