ہانگ کانگ: بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے 21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار
ہانگ کانگ نے چین کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ میں رہنے کی پابندی میں مزید 7 دن کی توسیع کر دی ہے جس کے بعد ان مسافروں کو مخصوص ہوٹلوں میں بنائے گئے قرنطینہ مراکز میں 21 دن گزارنا ہوں گے۔
حکام کے مطابق اس پابندی کی وجہ کرونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
حکام کی طرف سے ان مسافروں کے ہانگ کانگ آنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جنہوں نے گزشتہ 21 دن کے دوران جنوبی افریقہ میں قیام کیا ہو۔
واضح رہے کہ حکومت نے برطانیہ سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو برطانیہ سے پہنچنے والے دو طلبہ ممکنہ طور پر کرونا وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ ہیں۔
ایران کے لیے ویکسین کی خریداری ممکن ہوگئی
مشرقِ وسطی کے ملک ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر همتی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے بیرون ملک سے فنڈز کی منتقلی کے لیے امریکہ کی منظوری مل گئی ہے۔
مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر ھمتی کا کہنا تھا کہ ایران کا ایک بینک کرونا ویکسین خریدنے کے لیے سوئس بینک کو ادائیگی کرے گا جس کے لیے امریکہ کی وزارتِ خزانہ کی تائید حاصل ہو گئی۔
تاہم امریکہ کی طرف سے ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر همتیکے دعوے پر ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔
سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں مرکزی بینک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ان کے تمام بینکوں پر پابندیاں نافذ کی ہوئی ہیں۔ تاہم عالمی رائے عامہ کی وجہ سے مذکورہ معاملے میں چھوٹ دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران ‘کوویکس’ کو کرونا وائرس کی ویکسین کی خریداری کے لیے ادائیگی نہیں کر پا رہا۔
‘کوویکس’ کی ذمہ داری ہے کہ کرونا ویکسین کی ترقی پذیر ممالک میں بھی منصفانہ تقسیم ہو۔
پوپ فرانسس کا ممالک میں کرونا ویکسین کی تقسیم پر زور
مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کرسمس کے موقع پر اپنے خطاب میں مختلف ممالک پر زور دیا کہ وہ کرونا ویکسین شیئر کریں۔
جمعے کو خطاب میں پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ وبا کو روکنے کے لیے قوموں کے درمیان ایسی دیواریں تعمیر نہیں کی جا سکتیں جس کی کوئی سرحد نہیں ہے۔
کرونا وبا کی وجہ سے پوپ فرانسس نے ویٹیکن کے اندر سے ورچوئل انداز میں روایتی خطاب کیا۔ جب کہ اس سے قبل وہ یہ خطاب ہزاروں لوگوں کے سامنے کرتے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ یورپی ملک اٹلی میں کرونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ ہے جس کی وجہ سے لوگ کرسمس اور نیو ایئر کی تقریبات میں شرکت نہیں کر سکتے۔
پاکستان میں 39 ہزار افراد زیرِ علاج
پاکستان میں کرونا وائرس کے زیرِ علاج افراد کی تعداد میں معمولی کمی آئی ہے۔ اب بھی 39 ہزار افراد ملک بھر میں زیرِ علاج ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے 4 لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد وبا سے متاثر ہوئے تھے۔ جن میں سے 9 ہزار 800 سے زائد کی موت ہوئی جب کہ 4 لاکھ 20 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
یوں اب بھی ملک بھر میں 39 ہزار 177 افراد زیرِ علاج ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق زیرِ علاج افراد میں سے 2ہزار 325 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے 65 لاکھ 24 ہزار کے قریب ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں ٹیسٹ کی استعداد ایک بار پھر بڑھا دی گئی ہے اور یومیہ 35 سے 40 ہزار ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے 37 ہزار کے قریب ٹیسٹ کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22260 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔