موڈرنا ویکسین کے ری ایکشن کے ایک کیس کی اطلاعات
امریکہ کی ریاست میسا چوسٹس کے شہر بوسٹن میں ایک ڈاکٹر کو موڈرنا کمپنی کی کرونا ویکسین جمعرات کو لگائے جانے کے بعد اس کا ری ایکشن جمعے کو سامنے آیا ہے۔
امریکی اخبار ‘نیو یارک ٹائمز’ کے مطابق ڈاکٹر حسین صدر زادہ جو کہ بوسٹن میڈیکل سینٹر سے وابستہ ہیں، کا کہنا تھا کہ ویکسین لگوانے کے فوری بعد اس کا شدید ری ایکشن ہونے لگا اور انہیں چکر آنے لگے۔ جب کہ ان کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو گئی۔
موڈرنا ویکسین کا ری ایکشن پہلی بار سامنے آیا ہے۔ اس ویکسین کے امریکہ میں لگانے جانے کا عمل رواں ہفتے شروع کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے حکام کا پچھلے ہفتے کہنا تھا کہ وہ فائزر اور بائیو این ٹیک کی کرونا ویکسین کے پانچ ری ایکشن کیسز کی تحقیقات کر رہی ہے۔
پاکستان میں کرونا ویکسین مارچ میں ملنے کا امکان
پاکستان میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے چین میں بنائی گئی کرونا ویکسین کی آزمائش جاری ہے۔ بڑے پیمانے پر جاری تجربات میں ہزاروں رضاکار شریک ہیں۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین کے لیے کم از کم اگلے سال مارچ تک انتظار کرنا ہوگا۔ ویکسین کی تیاری اور دستیابی کے لیے جاری کوششوں پر لاہور سے ضیاء الرحمٰن کی رپورٹ۔
روس میں متاثرہ افراد کی تعداد 30 لاکھ سے متجاوز
روس میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 29 ہزار سے زائد افراد میں وبا کی تشخیص ہوئی جس کے بعد روس میں عالمی وبا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 30 لاکھ 21 ہزار 964 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں میں مزید 567 اموات رپورٹ کی گئیں۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق روس میں اس وبا کے سبب اب تک 53 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
امریکہ: ویکسین کی دستیابی کے بعد کیا صورتِ حال ہے؟
امریکہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دو کروڑ کے ہندسے کی جانب بڑھ رہی ہے لیکن امید افزا خبر یہ ہے کہ امریکہ میں ویکسین بھی دستیاب ہے۔ فائزر اور موڈرنا کی ویکسین دستیاب ہونے کے بعد امریکہ میں کیا صورتِ حال ہے؟ جانتے ہیں آؤنشمن اپٹے سے۔