بھارت: آسٹرا زینیکا کی تیار کردہ کرونا ویکسین کو منظوری ملنے کا امکان
بھارت میں ادویات کی منظوری دینے والا ادارہ 'سی ڈی ایس سی او' جمعے کو 'آسٹرا زینیکا' اور 'آکسفورڈ یونیورسٹی' کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی ہنگامی استعمال کی اجازت دے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ذرائع کے مطابق اس منظوری کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کے بعد وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں کرونا ویکسین لگائے جانے کا عمل شروع ہو گا۔
خیال رہے کہ برطانیہ اور ارجنٹائن میں پہلے ہی اس ویکسین کی ہنگامی منظوری دی جا چکی ہے۔
ذرائع کا نام صیغہ راض میں رکھنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ادارہ مقامی طور پر 'بھارت بائیو ٹیک' کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی بھی منظوری دے گا۔
بھارت میں آسٹرا زینیکا کی تیار کردہ ویکسین بنانے والا مقامی ادارہ 'سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا' کرونا ویکسین کی 5 کروڑ خوراکیں تیار کر چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق کرونا ویکسین کی تیار شدہ خوراکوں کی بھارتی ریاستوں تک ترسیل ہفتے سے شروع ہوگی۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 82 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس سے نئے سال کے پہلے دن 82 افراد کی موت ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 82 اموات کے بعد پاکستان میں وبا سے ہونے والی مجموعی اموات کی تعداد 10 ہزار 258 ہو گئی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وبا کے کیسز گزشتہ برس کے آغاز میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے۔ جب کہ وبا سے ابتدائی اموات کی تصدیق 18 مارچ میں ہوئی تھی۔ خیبر پختونخوا کے حکام نے 18 مارچ کو مردان اور پشاور میں دو افراد کے وبا سے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔
قبل ازیں گلگت بلتستان میں بھی ایک فرد کے وبا سے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم حکام نے اس کی تردید کی تھی۔
ملک بھر میں مئی کے آخر سے جولائی کے اختتام تک پہلی لہر کے دوران اموات کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور 20 جون کو ایک دن میں 153 افراد بھی وبا سے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔
اگست کے آغاز سے اکتوبر کے اختتام تک پاکستان میں وبا سے اموات کی شرح کافی حد تک نیچے آ گئی تھی۔ البتہ نومبر میں دوسری لہر کے آغاز سے ایک بار پھر اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری لہر کے دوران 23 دسمبر کو سب سے زیادہ 111 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔
دسمبر میں 28 لاکھ امریکیوں کو ویکسین دی گئی، ہدف دو کروڑ تھا
دسمبر کی آخری تاریخ تک امریکہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تقریباً 28 لاکھ لوگوں کو ویکسین دی جا سکی تھی، جب کہ حکومت نے دسمبر کے دوران دو کروڑ افراد کو ویکسین دینے کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا۔
نرسنگ ہوم میں رہائش پذیر افراد کے پاس ویکسین پہنچنے کی رفتار ان لوگوں کے مقابلے میں کافی سست رہی، جن کا شمار کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والوں کی اولین صف میں کیا جاتا ہے۔
بیماریوں سے احتیاط اور کنٹرول کے ادارے نے بتایا ہے کہ دسمبر کی 30 تاریخ تک تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار ایسے افراد کو ویکسین دی جا چکی تھی جو دائمی بیمار ہیں اور نرسنگ ہوم میں رہ رہے ہیں۔ جب کہ ان کے لیے 22 لاکھ خوراکیں فراہم کی گئی تھیں۔
وفاقی عہدے داروں نے بتایا ہےکہ اب تک امریکی ریاستوں کو فائزر اور ماڈرنا کی ایک کروڑ 40 لاکھ خوراکیں مہیا کی جا چکی ہیں۔ جب کہ دسمبر کے دوران دو کروڑ خوراکوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستان میں 35 ہزار سے زائد افراد زیرِ علاج
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وبا سے مزید 2184 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وبا سے پاکستان میں 4 لاکھ 84 ہزار 362 افراد متاثر ہوئے جن میں سے 4 لاکھ 38 ہزار 974 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ حکام نے 10 ہزار 258 کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 35 ہزار 130 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔
زیرِ علاج افراد میں سے 2264 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
حکام کے مطابق وبا سے متاثرہ افراد کی تشخیص کے لیے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 38 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے۔ جب کہ مجموعی طور پر 67 لاکھ 75 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔