جرمنی میں ریکارڈ یومیہ اموات، لاک ڈاؤن کے قواعد پر تنقید
جرمنی کے ڈیزیز کنٹرول کے ایجنسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کے قواعد میں کئی خامیاں ہیں۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب جرمنی میں وبا سے اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور یومیہ اموات کی ریکارڈ تعداد سامنے آ رہی ہے۔
رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں جرمنی میں وبا سے 1244 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی ریکارڈ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں وبا سے اب تک 43 ہزار 881 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انسٹیٹیوٹ کے سربراہ لوتھر ویلر کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے واضح ہو رہا ہے کہ جرمنی لوگ وبا کی پہلی لہر کے مقابلے میں دوسری لہر کے دوران ایک مقام سے دوسرے مقام تک زیادہ سفر کر ہے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تیزی سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
جرمنی میں حکام نے وبا سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سماجی رابطوں پر پابندی، بڑے تعلیمی اداروں کی بندش اور سفر پابندیاں عائد کی ہیں البتہ ملک بھر میں بندشوں کا اطلاق یکساں نہیں ہے۔
پاکستان: تعلیمی ادارے کھولنے یا نہ کھولنے سے متعلق حتمی اعلان آج ہو گا
پاکستان میں تعلیمی ادارے کھولنے یا نہ کھولنے سے متعلق فیصلے کے لیے جمعے کو وزرائے تعلیم اور صحت کے ماہرین کا اجلاس ہو گا۔
وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزرائے تعلیم کے علاوہ معاون خصوصی برائے صحت بھی شریک ہوں گے۔
شفقت محمود نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ اسکول کھولنے کے خواہش مند ہیں لیکن حتمی فیصلہ صحت کی بنیاد پر ہی کیا جائے گا۔
ان کے بقول طلبہ کی صحت اولین ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ آخری مرتبہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم میں وزارتِ صحت کی سفارش کی روشنی میں 18 جنوری سے نویں سے بارہویں، 25 جنوری سے پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ہوا تھا۔
اسی طرح جامعات میں یکم فروری سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ 15 جنوری کو ایک مشاورتی اجلاس کے دوران صحتِ عامہ کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی اعلان کریں گے۔
چین: سالِ نو پر چھٹیاں نہ منانے والے کارکنوں کے لیے اضافی مراعات
چین میں ہر سال فروری کے مہینے میں نیا قمری سال شروع ہوتا ہے۔ اس موقع پر سالانہ چھٹیوں کا بھی اعلان کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بار مقامی حکومتوں اور فیکٹریوں نے اپنے عملے کو چھٹیوں سے روکنے کے لیے بہت سی مراعات کا اعلان کیا ہے۔
مراعات میں اضافی تنخواہ، تحائف، تفریح اور نئے سال پر مفت دعوتیں شامل ہیں۔
مراعات کا اعلان کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے، منافع ضائع ہونے اور ممکنہ طور پر لاک ڈاؤن کے خوف کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
نئے سال کی آمد کے موقع پر ملک بھر سے 28 کروڑ افراد مختلف شہروں کا سفر کرتے ہیں جن میں اکثریت دیہی علاقوں میں رہنے والے کارکنوں کی ہوتی ہے۔ یہ افراد اپنے خاندان سے دور دوسرے شہروں میں نوکریاں کرتے ہیں اور نئے سال کے موقع پر ہی اپنے اہل خانہ سے ملنے گھر واپس آتے ہیں۔
گزشتہ برس سال نئے سال کے موقع پر ہونے والی تعطیلات کے دوران شہریوں کے سفر کرنے کی وجہ سے کرونا وائرس تیزی سے پھیلا جب کہ بہت سے کارکن کئی مہینوں تک اپنے علاقوں میں پھنس گئے اور واپسی پر انہیں طویل عرصے تک قرنطینہ اور لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا۔
تعطیلات کے بعد ملازمین کے فیکٹریوں میں نہ پہنچنے کے باعث فیکٹریوں میں کام معمول سے کم رہا جس کے باعث صنعتی پیداوار میں کمی آئی اور مزدوروں کو کئی کئی ماہ تک بغیر آمدنی کے گزارا کرنا پڑا۔
کمپنیاں عام طور پر نئے سال پر ہونے والے جشن کے دوران کام کرنے والے افراد کو زیادہ اجرت دیتی ہیں لیکن اس سال مقامی حکومتوں اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ملازمین کو کہیں زیادہ مراعات دینا ہوں گی۔
چین کے زیادہ تر صوبوں نے وبائی امراض کے کنٹرول کی اہمیت کے ساتھ ساتھ صنعتی اور سپلائی چین کے استحکام کی ضمانت دیتے ہوئے کارکنوں کو شہروں سے باہر نہ جانے کی ترغیب دیتے ہوئے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
کرونا لاک ڈاؤن کے باوجود فضائی آلودگی میں متوقع کمی نہیں ہو سکی
کرونا وائرس کے پھیلنے کے باعث دنیا بھر میں لگائے گئے لاک ڈاؤنز سے فضا میں کچھ بہتری تو آئی مگر ماہرین کے مطابق بہت سے شہروں کی فضا بدستور مضرِ صحت رہی۔
لاک ڈاؤن کے آغاز میں اگرچہ بہت سے شہروں میں فضا صاف ہوئی مگر سائنس دانوں نے جب ڈیٹا کا مشاہدہ کیا تو انکشاف ہوا ہے کہ بہت سے مضرِ صحت ذرات فضا میں بدستور موجود رہے۔
سائنس دانوں کے مطابق فضا میں بہتری کچھ جگہوں میں ہوئی، جب کہ بہت سے شہروں کی فضا میں بہتری امید کے مطابق نہیں آئی۔
سال 2020 کے آغاز میں چین کے شہر ووہان سمیت دیگر شہروں میں چینی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر لگائے گئے لاک ڈاؤن کے بعد سیٹیلائٹ کی مدد سے دیکھا گیا کہ فضا میں نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی۔