رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:46 15.1.2021

برازیل میں آکسیجن کی شدید قلت، کرونا کے مریض دم گھٹنے سے مرنے لگے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

برازیل کی ریاست ایمیزوناز کو آکسیجن کی شدت کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں میں موجود کرونا وائرس کے مریض دم گھٹنے سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

ریاست میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں پر شدید دباؤ ہے اور آکسیجن کی طلب میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

حکام کی جانب سے جمعرات کو صحافیوں کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق آکسیجن کی قلت کے سبب لوگ اسپتالوں میں دم گھٹنے سے مر رہے ہیں۔

ریاستی کانگریس کے رکن مارسیلو راموس نے بتایا کہ حکومت نے امریکہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر آکسیجن کے سلینڈرز سے بھرا ایک فوری ٹرانسپورٹ طیارہ دارالحکومت میناؤس بھیجے۔

یاد رہے کہ عالمی وبا سے امریکہ اور بھارت کے بعد برازیل دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

11:03 15.1.2021

پاکستان میں کرونا سے مزید 45 اموات

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار مزید 45 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ملک میں عالمی وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 10 ہزار 863 ہو گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 40 ہزار 359 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2417 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

عالمی وبا کے شکار 2294 ایسے مریض ہیں جن کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پاکستان میں چار لاکھ 69 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہوئے ہیں اور ملک میں اب تک 72 لاکھ 84 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

11:09 15.1.2021

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا اجلاس

پاکستان میں کرونا وائرس کے نگراں ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا اجلاس جاری ہے جس کے دوران ملک میں عالمی وبا کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کی سفارشات کی روشنی میں پاکستان میں تعلیمی ادارے کھولنے یا نہ کھولنے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔ بعدازاں وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود پریس کانفرنس کے دوران حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے۔

12:16 15.1.2021

پاکستان میں تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر کے گزشتہ ماہ سے بند تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

شفقت محمود نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ نویں سے بارہویں جماعت تک کے تعلیمی اداروں میں 18 جنوری سے تدریسی عمل بحال ہو جائے گا جب کہ پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے یکم فروری سے کھلیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام تر مشاورت کے بعد جامعات میں تدریسی عمل یکم فروری سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شفقت محمود نے ملک میں کرونا وبا کی صورتِ حال اور اسکولوں میں تدریسی عمل سے متعلق ماضی کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ ستمبر کو اسکول کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اُس وقت ملک میں انفیکشن ریٹ ایک اعشاریہ نو فی صد تھا اور یومیہ اموات پانچ اور یومیہ کیسز 600 تھے۔

اُن کے بقول 26 نومبر کو تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ ہوا تو مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ ایک چار تک چلی گئی اور یومیہ اموات 47 اور کیسز تین ہزار رپورٹ ہونے لگے۔ جس کے بعد تعلیمی ادارے بند کیے گئے۔

شفقت محمود کہتے ہیں صحت کے ماہرین نے بتایا تھا کہ تعلیمی ادارے بند ہونے کا واضح اثر انفیکشن ریٹ پر پڑتا ہے۔ ان کے بقول موجودہ اعداد و شمار کے مطابق مثبت کیسز کی شرح سات اعشاریہ ایک چار سے کم ہو کر چھ اعشاریہ ایک پر آگئی ہے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کی تعلیم کو بہت نقصان ہوا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ دونوں چیزوں کو توازن میں رکھنے کے لیے ہم نے کم رسک کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG