ورچوئل ریئلٹی: کرونا وبا کے دور میں تربیت کا بہترین ذریعہ
کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے جب بہت سے لوگوں کے دفاتر ان کے گھروں میں ہی منتقل ہو گئے تو کاروبار مالکان اور مینیجرز کو نئے چیلنج کا سامنا ہوا۔یہ چیلنج تھا اپنے نئے اور پرانے ملازمین کی ٹریننگ کا۔ لیکن اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اب 'ورچوئل ریئلٹی' ٹیکنالوجی کی مدد لی جا رہی ہے۔
جاپان نے کرونا ٹیسٹ کرنے والے روبوٹ تیار کر لیے
جاپان کے وزیرِ صحت نے منگل کو ایسے روبوٹس کے پہلے نمونوں کا معائنہ کیا جو ایک مصنوعی بازو کے ذریعے مریض کی ناک کے اندر سے کرونا ٹیسٹ کے نمونے حاصل کرے گا اور 80 منٹ کے اندر نتیجہ دے دے گا۔
یہ روبوٹ کاواساکی ہیوی انڈسٹریز نے بنایا ہے اور جاپان رواں برس اولمپکس سے پہلے کرونا وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے دیگر اقدامات کے علاوہ کرونا ٹیسٹ میں تیزی لانا چاہتا ہے۔
یہ روبوٹ سسٹم شپنگ کنٹینرز کے ذریعے ٹرکوں پر لاد کر کھیل کے میدانوں، پارکوں اور دوسرے ایسے مقامات پر پہنچائے جا سکتے ہیں جہاں بڑے اجتماعات متوقع ہوں اور کم وقت میں بڑی تعداد میں کرونا ٹیسٹ کرنے ہوں۔
وزیر صحت نوریہیشا تامورا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیا بھر میں ردعمل دیکھنا چاہیے۔ ہمیں ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات چار لاکھ سے متجاوز
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے لنکن میموریل پر اس مہلک وبا کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والوں کی یاد میں منگل کی شام ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اس موقع پر منتخب صدر جو بائیڈن نے اپنے مختصر بیان میں کہا ہے کہ بعض اوقات یاد کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے، لیکن اسی طرح زخم بھرتے ہیں۔ بحیثیت قوم ایسا کرنا اہم ہے۔
اسی طرح کاملا ہیرس نے کہا ہے کہ کئی ماہ سے ہم سب افسردہ ہیں۔ لیکن ہم سب مل جل کر ایک دوسرے کا دُکھ بانٹنے کے لیے متحد ہیں۔
ویکسین کی تقسیم میں غریب ملکوں کا خیال رکھا جائے: عالمی ادارۂ صحت
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس نے کرونا ویکسین کی غریب ممالک کو غیر مساوی تقسیم کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہا ہے کہ دنیا ایک بڑی اخلاقی غلطی کی مرتکب ہو رہی ہے۔
جینیوا میں عالمی ادارۂ صحت کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ درست نہیں ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے صحت مند اور نوجوان افراد کو ترقی پذیر ممالک کے طبی عملے اور عمر رسیدہ افراد سے پہلے ویکسین لگائی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کرونا ویکسین کی چار کروڑ کے قریب خوراکیں ترقی یافتہ ممالک میں لگائی جا چکی ہیں مگر ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد محض 25 ہزار ہے۔
ان کے بقول اگر امیر ممالک غریب ممالک سے کرونا ویکسین شیئر نہیں کرتے تو ان ممالک کو اس کی قیمت لوگوں کی جان اور مال سے دینی پڑے گی۔