پاکستان میں لگنے والی کرونا ویکسین کتنی محفوظ ہے؟
پاکستان کرونا کی پہلی ویکسین حاصل کرنے کے قریب ہے۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق چین پاکستان کو ویکسین کی پانچ لاکھ ڈوزز 10 دن میں مفت مہیا کر دے گا۔ اس ویکسین کے بارے میں جانتے ہیں لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وی سی ڈاکٹر جاوید اکرم سے وائس آف امریکہ کی سارہ زمان کی گفتگو میں۔
پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 35 ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 43 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ زیرِ علاج افراد کی تعداد بھی 35 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 43 اموات سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11 ہزار 247 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر میں مزید 1927 افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار 818 ہو گئی ہے۔ جن میں سے 11 ہزار 247 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب کہ 4 لاکھ 84 ہزار 508 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب بھی 35 ہزار 63 افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سے دو ہزار 283 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
اسٹرازینیکا کو پیداواری مسائل کا سامنا، یورپ کو ویکسین کی ترسیل میں کمی
کرونا ویکسین بنانے والی برطانوی کمپنی 'اسٹرا زینیکا' نے یورپی یونین کے حکام کو مطلع کیا ہے کہ پیداواری مسائل کی وجہ سے کمپنی یورپی یونین کو فرام کی جانے والی ویکسین کی خوراکوں میں 60 فی صد کمی کرتے ہوئے اب صرف تین کروڑ 10 لاکھ خوراکیں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں فراہم کر سکے گی۔
اس سے قبل امریکی کمپنی ‘فائزر’ اور جرمن کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ کی جانب سے بھی یورپی یونین کو کہا گیا تھا کہ ویکسین کی رسد کو بڑھائے جانے کے لیے درکار اقدامات کی وجہ سے ویکسین کی یورپی یونین کو فراہمی کم کی جا رہی ہے۔
اسٹرازینیکا سے ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے والے حکام کے مطابق کمپنی نے کرونا وائرس کی 8 کروڑ خوراکیں 27 یورپی ممالک کو رواں سال مارچ کے اختتام تک فراہم کرنی تھیں۔
تاہم حکام کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی ابتدائی معاہدے کے مطابق کرونا وائرس کی فراہمی 15 فروری تک شروع کر دے گی۔
خیال رہے کہ یورپی یونین کا اسٹرازینیکا سے کم از کم 30 کروڑ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ ہوا تھا جب کہ معاہدے میں 10 کروڑ اضافی خوراکیں بھی شامل تھیں۔
ہانگ کانگ کے گنجان آباد علاقے میں سخت لاک ڈاؤن نافذ
ہانگ کانگ کے گنجان آباد علاقے میں کرونا وائرس کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے ہفتے سے پہلا لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے ہزاروں شہریوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے۔
جورڈن نامی علاقے میں لگ بھگ 10 ہزار لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہاں مقیم افراد کو اپنی رہائش گاہ صرف اس صورت چھوڑنے کی اجازت ہو گی جب وہ کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کریں گے۔
حکام کے مطابق اس علاقے کے رہائشیوں کے 48 گھنٹوں میں کرونا ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ تا کہ کرونا وائرس پر مکمل طور پر قابو پایا جا سکے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے سیکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ دو ماہ سے ہانگ کانگ میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر جاری ہے اور حکام یومیہ کیسز پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔