آسٹریلین اوپن میں شریک تین افراد میں وائرس کی نئی قسم کی تشخیص
آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے تین افراد میں برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکام کا ہفتے کو کہنا تھا کہ میلبرن میں قرنطینہ کیے گئے تینوں افراد کھلاڑی نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ ٹینس ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے آسٹریلیا آنے والے تمام افراد کو رواں ماہ 15 جنوری سے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے 72 کھلاڑیوں کو بھی دو ہفتوں کے لیے ان کے ہوٹل رومز میں قرنطینہ کیا گیا ہے اور انہیں اس دوران پریکٹس کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ریاست وکٹوریا میں گزشتہ 17 دن کے دوران مقامی منتقلی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور حکام ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑیوں اور اسٹاف کو علیحدہ رکھے ہوئے ہیں۔
وکٹوریا کی قرنطینہ ایجنسی کے مطابق ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے 10 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
دنیا گھومنے نکلنے والا جرمن جوڑا لاہور میں پھنس گیا
لاہور کی مختلف سڑکوں پر ایک گاڑی میں گزشتہ چھ ماہ سے رہنے والا جرمن جوڑا 2018 میں دنیا گھومنے نکلا تھا۔ لیکن کرونا وبا نے دونوں میاں بیوی کا سفر پاکستان میں ہی روک دیا۔ یہ جرمن سیاح اب بھارت کی سرحد کھلنے کی امید لیے لاہور کی سڑکوں پر رہتے ہیں اور پاکستانیوں سے دوستی بڑھا رہے ہیں۔
'جادوئی محلول' کا اثر نہ ہو سکا، سری لنکا کی وزیرِ صحت کرونا سے متاثر
سری لنکا کی وزیرِ صحت، جنہیں کرونا وائرس کے علاج کے لیے ایک جادوگر کے تیار کردہ محلول کو استعمال کرنے اور اسے وبا کے خلاف مؤثر قرار دینے پر تنقید کا سامنا تھا، کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
وزارتِ صحت کے حکام نے ہفتے کو تصدیق کی کہ پویترا وانیارا چیچی حکومت کی اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں جو وبا سے متاثر ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق پویترا اور ان کے قریبی افراد کو خود کو قرنطینہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شہد اور جائفل سے تیار کردہ محلول سے کرونا وبا کے علاج سے متعلق کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں دارالحکومت کولمبو کے شمال مشرقی علاقے کیگالے میں مذکورہ محلول کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں موجود تھیں۔
یہ مبینہ 'جادوئی دوا' بنانے والے جادوگر کا دعویٰ تھا کہ اسے یہ محلول بنانے کا فارمولا قدرت نے عطا کیا ہے۔
نیوزی لینڈ: دو ماہ بعد کرونا کیس رپورٹ
نیوزی لینڈ میں دو ماہ سے بھی زیادہ عرصے کے بعد ایک خاتون میں کرونا وائرس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد کمیونٹی کی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
نیوزی لینڈ حکام کا اتوار کو کہنا تھا کہ ایک 56 سالہ خاتون میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جو کہ حال ہی میں یورپ سے واپس آئی تھیں۔
نیوزی لینڈ میں بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی طرح اس خاتون نے بھی قرنطینہ میں 14 روز گزارے اور رواں ماہ 13 جنوری کو انہیں گھر بھیجنے سے پہلے کیے جانے والے دو کرونا ٹیسٹ بھی منفی آئے۔ تاہم ان میں بعد میں علامات سامنے آئیں اور ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آیا ان خاتون میں اسی قرنطینہ میں رہنے والے کسی دوسرے مسافر سے وائرس منتقل ہوا ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں اب تک وائرس کی مقامی منتقلی پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا تھا۔
تاہم اس خاتون میں وائرس کی تصدیق کے بعد وائرس کی کمیونٹی کی سطح پر منتقلی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔