پاکستان میں چھ فی صد متاثرہ افراد اب بھی زیرِ علاج
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ چھ فی صد افراد کا علاج ابھی جاری ہے۔ جن میں سے دو ہزار 228 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے پانچ لاکھ 35 ہزار 914 افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے 91.5 فی صد یعنی چار لاکھ 90 ہزار 126 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 2.12 فی صد مریضوں کی موت ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب بھی 6 فی صد یعنی 34 ہزار 412 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔ جن میں سے 2228 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
پاکستان میں اموات کی تعداد 11 ہزار 376 ہو گئی
پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 11 ہزار 376 تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وبا سے مزید 58 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے 77 لاکھ 22 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ گزشتہ روز مزید 42 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے۔
سفر کے لیے 'ویکسین پاسپورٹ' کے اجرا پر یورپ تقسیم
ایسے افراد جنہیں ویکسین لگ چکی ہو، انہیں ایک 'ویکسین پاسپورٹ' پر سفر کرنے کی اجازت دینے کے سوال پر یورپ میں حکومتیں تقسیم کا شکار ہیں۔
جنوبی یورپ کے ممالک، جن کا انحصار سیاحت پر ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے سخت نقصان میں ہیں کیوں کہ تمام بین الاقوامی سرحدیں بند ہیں۔
یہ ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے افراد جنہیں ویکسین لگ چکی ہو، ان کے لیے سرحدیں کھول دی جائیں اور انہیں سفر کی اجازت دی جائے۔
یونان کے وزیرِ اعظم، کِری آکو متسو تاکیس یورپی کمیشن پر زور دے رہے ہیں کہ ویکسین حاصل کرنے والوں کو ایک سرٹیفکیٹ دیے جانے پر کام کیا جائے۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے یورپی کمیشن پر زور دیا کہ وہ کوئی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دیں جس سے ویکسین کا سرٹیفکیٹ تمام رکن ممالک میں قابل قبول ہو۔
یورپ کی فضائی کمپنیاں، ہوٹل کی صنعت اور ٹریول ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ویکسین لگوانے کے سرٹیفکیٹ سے یورپی ممالک کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے میں تیزی آئے گی۔
امریکہ کا جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک پر سفری پابندیاں بحال کرنے کا فیصلہ
امریکہ کے صدر جو بائیڈن پیر سے برازیل، آئرلینڈ، برطانیہ اور دیگر 26 یورپی ملکوں سے آنے والے غیر ملکی شہریوں پر کرونا وائرس کی سفری پابندی باضابطہ طور پر بحال کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے حکام نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر اتوار کو بتایا ہے کہ جن ممالک پر کرونا کے سبب امریکہ کے لیے سفری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں ان میں جنوبی افریقہ کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے اس اقدام کی وجہ کرونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کا طرہ بتائی جاتی ہے جو جنوبی افریقہ کے اندر اور باہر پھیل چکی ہے۔
بائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے آخری دنوں کے اس حکم نامے کو منسوخ کر رہے ہیں جو آئندہ منگل تک سفری پابندیوں میں نرمی کا متقاضی ہے۔