کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف ویکسین کو مزید مؤثر بنانے کا کام شروع
امریکی سائنس دانوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کو برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں پائی جانے والی نئی اقسام کے خلاف مزید مؤثر بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔
اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے امریکہ کے متعدی امراض کے سب سے بڑے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے 'این بی سی' نیوز چینل کو بتایا کہ سائنس دان موجودہ ویکسین کو حالات کے مطابق زیادہ بہتر بنانے پر پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں۔
دوا ساز کمپنی موڈرنا نے بھی کہا ہے کہ اگرچہ اس کی بنائی گئی ویکسین کرونا وائرس کی نئی دریافت ہونے والی اقسام کے خلاف مؤثر ہے۔ مگر وہ ایک ایسی ویکسین بنانے پر کام کر رہی ہے جسے وائرس کی نئی اقسام کے خلاف ایک بوسٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
کمپنی کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر ٹال زیکس نے اخبار 'نیویارک ٹائمز' کو بتایا کہ موڈرنا ویکسین کو کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف مؤثر بنانے کا وقت سے پہلے تیار رہنے کا کام اسے انشورنس پالیسی سمجھ کر انجام دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی، جو امریکہ کے الرجی اور متعدی امراض کے قومی ادارے کے سربراہ اور صدر جو بائیڈن کے میڈیکل مشیر ہیں، کہتے ہیں کہ اگرچہ اس سلسلے میں کوئی سرکاری ڈیٹا ابھی سامنے نہیں آیا لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والا وائرس زیادہ خطرناک ہے۔
یورپی یونین کی ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو ذمہ داری ادا کرنے پر زور
یورپی یونین نے کرونا ویکسین بنانے والے اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے معاہدوں کی پابندی کریں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے 'آسٹرا زینیکا' کی جانب سے ویکسین کی فراہمی میں تاخیر کی وضاحت نہ دینے پر بھر تنقید کی تھی۔
یورپین کمیشن کی صدر ارسلا ون نے سوئٹزر لینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یورپ نے اربوں یوروز کی سرمایہ کاری کی تاکہ دنیا کی پہلی کرونا ویکسین بن سکے۔ اس کا مقصد دنیا کے لیے حقیقی طور پر اچھا کرنا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کمپنیوں کو لازمی طور پر اس ویکسین کی فراہمی ممکن بنانی چاہیے۔ اور ان کو اپنے فرائض کی ادائیگی کرنی چاہیے۔
یورپی یونین کے مطابق اس نے ویکسین کی تیاری اور اس کی فراہمی کے لیے دو ارب 70 کروڑ ڈالرز کی خطیر رقم فراہم کی تھی۔
دنیا بھر میں کرونا کے مصدقہ کیس 10 کروڑ سے متجاوز
پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے عالمگیر وبا کرونا سے متاثر ہونے والے مصدقہ کیسز کی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ دنیا کے کئی ممالک میں اب بھی وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق دنیا کی 1.3 فی صد آبادی کے مصدقہ طور پر اس وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ وائرس کی نئی اقسام اس کے تیزی سے پھیلاؤ کا موجب بن رہی ہیں۔
نئے سال کے آغاز پر ہر 7.7 سیکنڈ کے بعد دنیا میں ایک شخص اس مہلک وائرس سے متاثر ہوا ہے جس کے بعد اس ماہ ہر روز اوسطً چھ لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہوتے رہے ہیں۔
دنیا بھر میں وبا سے مرنے والوں کی شرح 2.15 فی صد رہی ہے۔
امریکہ، بھارت، برازیل، برطانیہ، روس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں ہیں۔
امریکہ کرونا ویکسین کی مزید 20 کروڑ خوراکیں خریدے گا: صدر بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کرونا وبا سے بچاؤ کی مزید 20 کروڑ خوراکیں خریدے گا تاکہ موسمِ خزاں سے قبل ملک کی 30 کروڑ آبادی کی ویکسی نیشن کا عمل مکمل ہو سکے۔
امریکہ نے 'فائزر' اور 'موڈرنا' ویکسینز کی 10، 10 کروڑ خوراکیں خریدنے کا معاہدہ کیا ہے جن کی ترسیل کا عمل موسمِ گرما کے اختتام یا خزاں کے آغاز میں مکمل ہو جائے گا۔
منگل کو نیوز کانفرنس کے دوران بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس وبا کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ ویکسین کے نئے آرڈر کے بعد امریکہ مجموعی طور پر وائرس سے بچاؤ کی 60 کروڑ خوراکیں حاصل کر لے گا۔
بائیڈن کے بقول "یہ خوراکیں ابھی امریکہ کے پاس نہیں پہنچیں، لیکن ہم اُمید کرتے ہیں کہ موسمِ گرما کے دوران یہ موصول ہو جائیں گی۔"
بائیڈن انتظامیہ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ دستیاب خوراکوں کی ریاستوں میں ترسیل میں تیزی لائیں گے تاکہ آئندہ تین ہفتوں کے دوران ویکسی نیشن میں اضافہ ہو سکے۔