پاکستان میں کرونا سے مزید 26 اموات
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 26 مریض دم توڑ گئے جب کہ ایک ہزار 615 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں عالمی وبا سے ہلاکتوں کی کل تعداد 11 ہزار 683 ہو چکی ہے اور اب تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 46 ہزار سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں کرونا کے شکار 2092 مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جب کہ پانچ لاکھ ایک ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
چین سے کرونا وائرس کی ویکسین پاکستان پہنچ گئی
چین میں تیار ہونے والی کرونا وائرس کی ویکسین 'سائنو فام' کی پہلی کھیپ پیر کی صبح پاکستان پہنچ گئی ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چین نے 'سائنو فام' کی پانچ لاکھ خوراکیں پاکستان کو بطور تحفہ دی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین سب سے پہلے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو دی جائے گی۔
پاکستان 'ایسٹرازینیکا' ویکسین کی ایک کروڑ 70 لاکھ خوراکیں حاصل کرے گا
حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آکسفرڈ یونیورسٹی اور ایسٹرازینیکا کی تیارکردہ کرونا ویکسین کی ایک کروڑ 70 لاکھ خوراکیں حاصل کرے گی۔ یہ ویکسین عالمی ادارۂ صحت کے 'کوویکس' پروگرام کے تحت پاکستان کو ملیں گی۔
ادھر چین کی جانب سے عطیہ کی جانے والی ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں لے کر پاکستان ایئر فورس کا طیارہ اسلام آباد پہنچ گیا۔ ابتداً یہ ویکسین طبی عملے اور فرنٹ لائن ورکرز کو لگائی جائے گی۔
وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ویکسین کی 70 لاکھ خوراکیں مل جائیں گی جب کہ باقی ماندہ خوراکیں دوسری سہ ماہی کے اختتام تک دستیاب ہوں گی۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے پاکستان میں ویکسی نیشن پروگرام کا آغاز ہو جائے گا۔
پاکستان میں مجموعی طور پر کرونا وبا کنٹرول میں ہے۔ تاہم ملک میں اب تک پانچ لاکھ 46 ہزار سے زائد کیس جب کہ 11 ہزار 683 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
آسٹریلیا: کرونا کا ایک کیس رپورٹ ہونے پر پرتھ میں لاک ڈاؤن
آسٹریلیا نے ملک کے مغربی شہر پرتھ میں کرونا وائرس کا ایک کیس سامنے آنے کے بعد 20 لاکھ آبادی والے شہر میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق ایک ہوٹل کے سیکیورٹی گارڈ میں وائرس کی تشخیص کے بعد پرتھ میں پانچ روز کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔
متاثرہ سیکیورٹی گارڈ جس ہوٹل میں تعینات تھا اسے قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ سے 66 افراد کا رابطہ ہوا اور ان میں سے کوئی بھی شخص کرونا کا شکار نہیں ہوا تھا۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا میں سرحدوں کی بندش اور سخت پابندیوں کے باعث کرونا کیسز اور اموات کی شرح دیگر ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ عالمی وبا سے آسٹریلیا میں اب تک 909 اموات اور لگ بھگ 29 ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔