پاکستان میں ویکسی نیشن کا عمل جاری
چین سے بطور تحفہ ملنے والی کرونا ویکسین پاکستان میں طبی عملے کو لگائی جا رہی ہے۔ کراچی کے ایک مرکز پر پہلے سے خود کو رجسٹرڈ کرانے والے ہیلتھ ورکرز کو یہ ویکسین دی جا رہی ہے۔
ہرڈ امیونٹی کیا ہے؟
کرونا وبا کے عالمی بحران کے دوران آپ کئی بار سن چکے ہوں گے کہ 'ہرڈ امیونٹی' حاصل ہو جائے تو وائرس سے نمٹنا آسان ہو جائے گا۔ لیکن یہ ہرڈ امیونٹی ہے کیا؟ دنیا بھر میں ہرڈ امیونٹی کا ہدف کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے اور ہرڈ امیونٹی حاصل ہو جانے کے بعد کیا ہوگا؟ جانیے آن لائن کلینک میں۔
ووہان کی لیبارٹری سازشی نظریات کا موضوع کیوں بنی؟
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی عالمی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے بدھ کے روز چین کے شہر وہان میں اس وائرولوجی لیبارٹری یا ریسرچ سینٹر کا دورہ کیا۔ جس کے بارے میں قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ کرونا وائرس کا جنم یہیں ہوا۔ وائرولوجی سے مراد وائرس کا مطالعہ اور ان سے پیدا شدہ امراض کے بارے میں بحث کرنے والی طب کا شعبہ ہے۔
ٹیم نے تقریبا ساڑھے تین گھنٹے ووہان انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی میں گزارے۔ جب ایک رپورٹر نے ٹیم کے ارکان سے پوچھا کہ کیا انہیں کچھ ملا، تو جواب میں کار میں بیٹھی ہوئی ایک ماہر کا کہنا تھا کہ بہت دلچسپ، بہت سے سوالات، اور یہ کہتے ہی ان کی کار فراٹے بھرتے ہوئے وہاں سے روانہ ہو گئی۔
ووہان کی وائرولوجی لیبارٹری کئی سازشی نظریات کا موضوع بنی ہوئی ہے کہ کرونا وائرس یہیں سے باہر آیا اور سب سے پہلے کرونا وائرس کی وبا اسی شہر سے پھوٹی اور پورے شہر میں پھیل گئی۔
تاہم زیادہ تر سائنس دان اس نظریے کو رد کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جن کے نزدیک کرونا وائرس کو باہر سے لایا گیا اور اس کی جانچ کی گئی کہ کہیں یہ انسانوں کیلئےخطرناک تو نہیں ہو گا، اور انہی تجربات کے دوران یہ لیبارٹری سے باہر آیا اور پھیل گیا۔
چین میں چمگادڑوں کی غاروں کا کرونا وائرس سے کیا تعلق ہے؟
چین کی چمگادڑیں کرونا وائرس کے آغاز کا کھوج لگانے والے سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بن رہی ہیں۔ اور چین کے شہر ووہان کا دورہ کرنے والی عالمی ادارہ صحت کے سائنس دانوں اور ماہرین کی ٹیم کے ایک رکن نے کہا ہے کہ یہ بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کہ کرونا وائرس کا آغاز کیسے ہوا، ہمیں چین میں چمگادڑوں کے غاروں کو دیکھنا چاہئے۔
کرونا وبا کے آغاز کے بعد کئی ماہرین نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کرونا وائرس چمگادڑ یا اسی طرح کے کسی جنگلی جانور سے انسانوں کو منتقل ہوا ہے۔
زوولوجسٹ اور جانوروں کی بیماریوں کے ماہر پیٹرک ڈائزک کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کا وفد کو جو ووہان میں موجود ہے ، عالمی وبا کے آغاز کے بارے میں نئی معلومات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ وائرس چین کی لباریٹری میں بنایا گیا۔
کرونا وائرس کا آغاز کیسے ہوا؟ اس بارے میں مختلف نظریات اور خدشات پائے جاتے ہیں۔ کرونا کے ابتدائی مریض ووہاں کے اس علاقے میں سامنے آئے، جہاں زندہ جانور فروخت کرنے والی ایک مارکیٹ ہے۔ اس مارکیٹ میں جنگلی جانور بھی فروخت کیے جاتے ہیں، جو انسانی خوراک کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسی مارکیٹ کے کسی جانور سے وائرس انسان کو منتقل ہوا ہو گا۔ تاہم ابھی اس بارے میں جامع تحقیق ہونا باقی ہے۔
ڈائزک اس سے پہلے ایک اور وائرس سارز کے آغاز پر تحقیق کر چکے ہیں جس کا آغاز چین کے ایک صوبے کی غاروں میں موجود چمگادڑوں سے ہوا تھا۔