بھارت کا افغانستان کو کرونا ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکوں کا عطیہ
افغانستان نے بھارت سے آنے والے کرونا ویکسین وصول کر لی ہے۔ نئی دہلی نے کابل کو ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں عطیہ کی ہیں۔
بھارت کے 'سیرم انسٹی ٹیوٹ' میں تیار ہونے والی 'ایسٹرازینیکا' کی ویکسین کی خوراکیں اتوار کو بھارت سے کابل پہنچیں۔ یہ افغانستان پہنچنے والی پہلی ویکسین تھی۔
لیکن افغانستان کو ویکسین کے استعمال کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے منظوری کا انتظار ہے۔
افغانستان کی وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین کی خوراکیں کابل میں ہی محفوظ رکھی جائیں گی جب تک عالمی ادارے کے جانب سے اس کے ہنگامی استعمال کی منظوری نہ مل جائے۔ حکام کو امید ہے کہ یہ منظوری ایک ہفتے میں مل جائے گی۔
چین میں مقامی سطح پر دو ماہ بعد کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا: حکام
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں دو ماہ بعد کرونا وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
چین میں اتوار کو کرونا کے 14 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ تاہم یہ کیسز باہر سے آنے والے افراد میں سامنے آئے تھے۔
خیال رہے کہ سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں 2019 کے اختتام میں کرونا کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد وبا اب تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
چین میں اب تک 89 ہزار سے زائد کیسز جب کہ 4636 اموات ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر میں اب تک کرونا کے 10 کروڑ سے زائد کیسز جب کہ 20 لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
آسٹریلیا: ویکسین لگوانے والوں کو سرٹیفکیٹ دیا جائے گا
آسٹریلیا میں کرونا وائرس لگوانے والے افراد کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ آسٹریلیا میں رواں ماہ بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم شروع کی جا رہی ہے۔
ویکسی نیشن مہم کے لیے آسٹریلیا نے بھرپور عوامی مہم بھی چلائی ہے تاکہ ویکسین سے متعلق عوام کے تحفظات دُور کیے جا سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز اور معمر افراد کو ترجیحی بنیادوں پر ویکسین لگائی جائے گی۔ آسٹریلیا نے 'فائزر' اور بائیو این ٹیک کی بنی ویکسین کے استعمال کی منظوری دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سرٹیفکیٹ کے حامل افراد کو اسپتالوں اور نرسنگ ہومز تک رسائی میں سہولت ہو گی۔ جہاں وبا کے پیشِ نظر سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
آسٹریلوی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر تک پوری آبادی کو ویکسین لگا دی جائے گی۔
پاکستان میں تین ماہ بعد کم ترین یومیہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 1008 افراد کے کرونا وائرس سے متاثرہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ تین ماہ کے عرصے میں یومیہ کیسز کی یہ کم ترین تعداد ہے۔
پاکستان میں یکم نومبر کو 1123 کیسز سامنے آئے تھے جس کے بعد کیسز کی شرح مسلسل بڑھتی رہی اور چھ دسمبر کو 3795 افراد کے وبا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔اس کے بعد کیسز کی اوسط کم ہونا شروع ہوئی البتہ جنوری کے وسط میں کیسز کی شرح کسی حد تک بڑھ گئی تھی۔
رواں ماہ کے آغاز سے پاکستان میں ایک بار پھر یومیہ کیسز کی شرح کم ہونا شروع ہوئی ہے اور پیر کو گزشتہ تین ماہ کے عرصے کے کم ترین 1008 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔