کرونا بحران اور کچرا اٹھانے والے فرنٹ لائن ورکرز کا تحفظ
کرونا وائرس کی وبا میں جس طرح طبی عملہ سب سے زیادہ خطرے میں ہے، اسی طرح گلی کوچوں سے کچرا اٹھانے والے خاکروب بھی وبا کا آسان ہدف ہو سکتے ہیں۔ اسپتالوں کا فضلہ، استعمال شدہ ماسک اور دیگر چیزیں سمیٹنے والے ان فرنٹ لائن ورکرز پر کیا گزر رہی ہے؟
جرمنی میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ
جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں توسیع کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کی مختلف اقسام کی وجہ سے خطرہ لاحق ہے اور وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتیں جس کی وجہ سے وبا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو۔
جرمنی کی 16 ریاستوں کے گورنروں کے ساتھ بدھ کو ہونے والی ایک میٹنگ کے بعد انجیلا مرکل نے اعلان کیا کہ وہ کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن میں سات مارچ تک توسیع کرنے پر متفق ہیں۔
واضح رہے کہ موجودہ لاک ڈاؤن کی مدت اتوار کو ختم ہونے والی تھی۔ جرمن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں سے خطاب کرتے ہوئے انجیلا مرکل نے کہا کہ انہوں نے 2020 میں تیزی سے کام نہیں کیا جو سال کے اختتام پر وائرس میں ہونے والے اضافے کو روکتا۔ محکمۂ صحت کے حکام اب زیادہ سنگین نوعیت کے وائرس کے پھیلاؤ کے بارے میں خبردار ہیں۔
جرمنی میں نومبر کے آخر میں موجودہ لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے روزانہ متاثر ہونے والے افراد کی شرح میں کمی آئی ہے جس کے بعد پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کچھ تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز جیسے ہیئر سیلون کو حفظانِ صحت کی سخت پابندیوں کے ساتھ جلد ہی کھولنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
انجیلا مرکل نے کہا کہ حکومت انفیکشن کی شرح کو کم کرنے کے لیے انتہائی کوشش کر رہی ہیں۔
جرمنی میں وائرس سے اب تک 23 لاکھ سے زائد افراد متاثر جب کہ اموات کی تعداد ساڑھے 63 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔
روس اور چین کی کرونا ویکسین کتنی مؤثر ہیں؟
زیادہ تر ترقی پذیر ممالک چین اور روس کی بنائی ہوئی ویکسین خرید رہے ہیں۔ لیکن طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک میں ویکسین بنانے والی ادویہ ساز کمپنیوں نے ان کی افادیت اور محفوظ ہونے کے حوالے سے اعداد و شمار ابھی تک جاری نہیں کیے۔
پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 26 ہزار سے بھی کم
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ زیرِ علاج افراد کی تعداد 26 ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہزار 536 ہے۔ جس کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 25 ہزار 649 رہ گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 1262 افراد متاثر ہوئے جس کے بعد مجموعی متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ 61 ہزار 625 ہو گئی۔ جب کہ اب تک پانچ لاکھ 23 ہزار 700 افراد صحت یاب ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ وبا سے 12 ہزار 276 اموات بھی ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق زیرِ علاج 25 ہزار 649 افراد میں سے 1692 انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے لگ بھگ 84 لاکھ ٹیسٹ بھی کیے جا چکے ہیں۔