رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:15 13.2.2021

لاس اینجلس: کیا ماسک نہ پہننے پر جیل جانا پڑے گا؟

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے۔ لیکن امریکہ کے کئی شہروں میں ماسک پہننے کے خلاف مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔

اس صورتِ حال میں لاس اینجلس کے میئر نے اعلان کیا ہے کہ پولیس ایسے افراد سے سختی سے پیش آئے گی جو ماسک پہننے والوں کو ہراساں کریں گے۔

لاس اینجلس: کیا ماسک نہ پہننے پر جیل جانا پڑے گا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:57 0:00

13:27 13.2.2021

کیا کھانسنا جرم ہے؟

ڈنمارک کی عدالتِ اعظمی آئندہ ہفتے یہ فیصلہ کرے گی کہ کیا کھانسنا ایک جرم ہے، اور کیا کسی کو کھانس کر ڈرانا، قابل سزا جرم ہے، یا ہنسی مذاق کی بات ہے؟

جب کسی کو کھانسی آتی ہے تو وہ پورا منہ کھول کر کھانس لیتا ہے۔ جو لوگ محتاط ہوتے ہیں وہ کھانستے وقت اپنا منہ ڈھانپ لیتے ہیں یا دوسری جانب کر لیتے ہیں تاکہ اس کی کھانسی سے سامنے والا متاثر نہ ہو۔ زیادہ تر لوگ یہی کرتے ہیں، سوائے ڈنمارک کے، جہاں اگلے ہفتے وہاں کی سپریم کورٹ کھانسنے سے متعلق ایک اہم مقدمے سے متعلق اپیل پر سماعت کرنے جا رہی ہے۔

یہ اپیل ایک نوجوان کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جسے ہائی کورٹ نے سزا سنائی ہے۔ نوجوان چاہتا ہے کہ اسے بری کر دیا جائے، جب کہ پراسیکیوٹرز اپنا پورا زور اس بات پر صرف کر رہے ہیں کہ کسی شخص کے سامنے منہ کھول کر کھانسنے، اور پھر اسے ڈرانے کے لیے 'کرونا' کا نعرہ لگانے والا یہ ملزم کم ازکم تین سے پانچ ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کاٹے تاکہ اسے نصحیت اور دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔ نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

بات صرف کھانسی کی ہی نہیں ہے بلکہ کھانس کر کرونا کے نام پر خوف زدہ کرنے کے طرز عمل کی بھی ہے۔ چاہے نوجوان نے یہ حرکت مذاق کے طور پر ہی کی ہو، لیکن پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ قانون ایسا مذاق کرنے کی اجازت نہیں دیتا جو مارے خوف کے دوسرے کا خون خشک کر دے۔ یہ خوف و ہراس پھیلانے کا اقدام ہے، جو قابل سزا جرم ہے۔

مزید جانیے

13:31 13.2.2021

وبا کی نئی اقسام پر تحقیق میں تیزی

یورپ کی یورپین میڈیسنز ایجنسی (ای ایم اے) کی کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ وبا کی نئی اقسام پر تحقیق میں تیزی لا رہے ہیں تا کہ ویکسین ان نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد ہو سکیں۔

ٹاسک فورس کے سربراہ مارکو کیولری کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی نئی اقسام پر پہلے کی طرح طویل آزمائشی عمل دہرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ان اقسام کے خلاف بنائی گئی ویکسین چھوٹے گروپس کے ذریعے بھی ٹیسٹ کی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ‘فائزر’، ‘موڈرنا’ اور ‘ایسٹرا زینیکا’ اپنی تیار کردہ کرونا ویکسینز، قدرے تیزی سے پھیلنے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف کار آمد ہونے سے متعلق تحقیق کیا جا رہی ہے۔

برازیل، برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکی ہیں اور حکام وبا پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جس سے اب تک لگ بھگ 25 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

13:34 13.2.2021

صحت یاب ہونے والے افراد کے لیے ویکسین کی ایک خوراک بھی مؤثر

فرانس میں حکام نے ایسے افراد کو کرونا ویکسین کی صرف ایک خوراک لگوانے کی تجویز دی ہے جو کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین میں لگائی جانے والی تینوں کرونا ویکسینز کی دو خوراکیں لگائی جاتی ہیں۔ جو کہ چند ہفتوں کے وقفے سے لگتی ہیں۔

وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جو افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں بالکل ویسا ہی مدافعتی نظام پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ کرونا ویکسین کی ایک خوراک لگائے جانے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد کو لگائے جانے والی کرونا ویکسین کی ایک خوراک ہی وبا کے خلاف لڑنے کے لیے کار آمد ہو گی۔

حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کرونا سے متاثر ہونے والے افراد وائرس کا شکار ہونے کے تین سے چھ ماہ کے اندر ویکسین لگوائیں۔

خیال رہے کہ فرانس پہلا ملک ہے۔ جس کی طرف سے کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے ویکسین کی صرف ایک خوراک تجویز کی گئی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG