امریکہ میں کرونا کیسز میں مسلسل کمی
امریکہ میں گزشتہ کئی روز سے کرونا کیسز میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ دسمبر میں امریکہ میں دو لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے تھے اب یومیہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہو گئی ہے۔
البتہ، حکام کا کہنا ہے کہ گو کہ وبا کی شدت میں کمی آ رہی ہے، لیکن امریکہ اس پر قابو پانے سے بہت دُور ہے۔
امریکی ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ وبا کی شدت کم ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عوام احتیاطی تدابیر چھوڑ دیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو ماسک کی پابندی، سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطی تدابیر کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا۔
امریکہ میں اب تک کرونا کے دو کروڑ 76 لاکھ سے زائد کیس جب کہ چار لاکھ 84 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 26 اموات، 1048 نئے کیس
پاکستان میں کرونا وائرس کے مزید 1048 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 64 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
پاکستان میں مزید 26 اموات کے بعد مجموعی اموات 12333 ہو گئی ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق ملک بھر میں اب تک کرونا کے 84 لاکھ 66 ہزار سے زائد ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں۔ ملک میں انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں 1680 مریض زیرِ علاج ہیں۔
پاکستان میں وبا سے اب تک پانچ لاکھ 25 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ادھر حکومتِ پاکستان نے 65 سال سے زائد معمر افراد کی ویکسی نیشن کے لیے رجسٹریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
پاکستان: معمر افراد کے لیے کرونا ویکسین کی رجسٹریشن، کیا ہر فرد کو ویکسین مفت ملے گی؟
حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں 65 برس اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے کرونا ویکسی نیشن کی رجسٹریشن کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے موقع پر ہوا ہے جب حکومت نے نجی شعبے کو ویکسین کی خریداری اور درآمد کی اجازت دی ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ملک بھر میں 65 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر میسج کر کے کرونا ویکسی نیشن کے لیے رجسٹر کرا سکتے ہیں۔
اسد عمر کے بقول معمر افراد کو کرونا ویکسی نیشن کا عمل مارچ میں شروع کیا جائے گا۔
پاکستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ ہفتے نجی شعبے کو ویکسین کی خریداری کی اجازت دی تھی جس کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ حکومت شہریوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کے وعدے سے دست بردار ہو گئی ہے۔
ویکسین کی سرکاری سطح پر قیمت لاگو کیے بغیر نجی شعبے کو اس کی فروخت کی اجازت دیے جانے پر حکومت کو تنقید کا بھی سامنا ہے۔
تاہم وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کو ویکسین کی درآمد کی اجازت کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ حکومت مفت ویکسین مہیا کرنے کے وعدے سے دستب ردار ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی شعبے کو عوام کا استحصال نہیں کرنے دی گئی اور ویکسین کی دستیابی کے ساتھ ہی اس کی قیمت مقرر کر دی جائے گی۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت ہر بالغ شہری کو ویکسین کی فراہمی کے لیے منصوبہ بندی کے لیے سرگرم ہے اور اس وعدے کو یقینی بنانے کے لیے درکار بجٹ پہلے سے مختص ہے۔
برطانیہ: ہائی رسک ممالک سے آنے والوں کو 10 روز تک قرطینہ میں رہنا ہو گا
برطانیہ نے کرونا وائرس سے زیادہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کو 10 روز تک قرنطینہ میں رہنے کی شرط عائد کر دی ہے۔ ان ممالک میں جنوبی افریقہ، زمبابوے، جنوبی امریکہ کے کئی ممالک بشمول برازیل، متحدہ عرب امارات، تنزانیہ شامل ہیں۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ پابندی برطانوی شہریوں یا مستقل ویزہ رکھنے والے افراد پر بھی لاگو ہو گی۔ مسافروں کو حکومت کے منظورہ شدہ ہوٹلز میں 10 روز قیام کرنا ہو گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے برطانیہ کے مختلف شہروں کے ہوائی اڈوں کے قریب 16 ہوٹلز کے ساتھ پانچ ہزار کمروں کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ 10 روزہ قیام کے لیے مذکورہ شخص کو دو ہزار یوروز ادا کرنا ہوں گے جن میں کھانا، ٹرانسپورٹیشن، سیکیورٹی، ٹیسٹںگ سمیت دیگر سہولیات دی جائیں گی۔
برطانیہ نے یہ اقدامات وائرس کی نئی قسم کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے ہیں۔