بھارت میں ایک بار پھر کیسز میں اضافہ
بھارت میں جمعے کو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے سب سے زیادہ 13 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔
ممبئی میں فیس ماسک کو یقینی بنانے کے لیے ہزاروں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جہاں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں ملک بھر سے رپورٹ کیے جانے والے کیسز میں سے 75 فی صد کیسز جنوبی ریاستوں کیرالا اور مہاراشٹرا سے سامنے آئے ہیں۔ جب کہ مہارشٹرا کے انتہائی گنجان آباد دو کروڑ نفوس والے شہر ممبئی میں کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کیرالہ میں تعلیمی اداروں کا کھلنا اور ممبئی اور مضافاتی علاقوں کے درمیان چلنے والی ٹرینوں کے دوبارہ شروع ہونے سے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق بھارت میں اب تک ایک کروڑ نو لاکھ سے زائد افراد وبا سے متاثر جب کہ ایک لاکھ 56 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
ویکسین لگانے کے سائیڈ ایفیکٹس میں سر درد، تھکاوٹ، چکر آنا شامل
امریکہ کے صحت سے متعلق ادارے یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے جمعے کو جاری کردہ رپورٹ میں شہریوں کو 'فائزر' اور 'موڈرنا' کی کرونا ویکسین لگائے جانے کے بعد نمودار ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار گزشتہ سال 14 دسمبر سے رواں سال 13 جنوری کے درمیان لگائے جانے والی ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد خوراکوں پر کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر جاری کیے گئے ہیں۔
سی ڈی سی کے مطابق ویکسین لگائے جانے کے بعد 6994 سائیڈ ایفیکٹس سے متعلق رپورٹس موصول ہوئیں جن میں سے 6354 رپورٹس کم سنجیدہ نوعیت کی جب کہ 113 رپورٹس سنجیدہ نوعیت کی تھیں۔ جب کہ اس ضمن میں 113 اموات بھی رپورٹ کی گئیں۔
ویکسین لگائے جانے کے بعد سب سے زیادہ عام شکایات سر درد، تھکاوٹ، چکر آنے، سردی لگنے اور متلی ہونے کی رپورٹ کی گئیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس سامنے آنے کا مطلب یہ ہے کہ ویکسین مطلوبہ مقاصد حاصل کر رہی ہے۔
فائزر کی ویکسین عام فریزر میں بھی دو ہفتے تک کارآمد رہ سکتی ہے
کرونا کی ویکسین پر کام کرنے والی فارماسوٹیکل پارٹنر کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی کرونا وائرس کی ویکسین اگر عام فریزر میں رکھی جائے تو دو ہفتوں تک کارآمد رہ سکتی ہے۔
فائرز کی ویب سائٹ پر دیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں کمپنیوں نے یہ نیا ڈیٹا ادویات پر کنٹرول کے امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو جمع کروا دیا ہے کہ ان کی کرونا وائرس کی ویکسین منفی 15 سے منفی 25 درجہ حرارت میں رکھی جائے تو بھی کارآمد رہ سکتی ہے۔ یہ درجہ حرارت عموماً فارماسوٹیکل فریزر اور ریفریجریٹرز کے ہوتے ہیں۔
یہ نئی معلومات اس حوالے سے اہم ہے کہ فائزر اور بائیو این ٹیک کی کرونا ویکسین کی ترسیل میں ایک رکاوٹ یہ تھی کہ یہ ویکسین انتہائی ٹھنڈے فریزر میں ہی کارآمد رہ سکتی تھی اور اسے مارکیٹ میں عام بکنے والے فریزر میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ اس ضرورت کی وجہ سے فائزر کی ویکسین کی ترسیل کی لاگت کافی بڑھ جاتی ہے اور اسے کم ترقی یافتہ علاقوں تک پہنچانا ممکن نہیں ہوتا۔
پاکستان میں کرونا سے مزید 38 ہلاکتیں
پاکستان میں اتوار کو کرونا سے مزید 38 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 12 ہزار 601 ہو گئی ہے۔
ملک میں اتوار کو کرونا کے مزید 1329 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز پانچ لاکھ 71 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان میں اب تک تک وائرس کی تصدیق کے لیے 86 لاکھ سے زائد ٹیسٹس کیے جا چکے ہیں۔
ملک بھر میں اس وقت 1616 مریض انتہائی نگہداشت وارڈز میں زیرِ علاج ہیں۔ پاکستان میں طبی عملے کو وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔