امریکہ: برفانی طوفان سے کرونا ویکسی نیشن مہم متاثر، ٹیکساس آفت زدہ ریاست قرار
امریکہ میں برفانی طوفان اور شدید سرد موسم کی وجہ سے معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ طوفان کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے جاری ویکسی نیشن مہم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے طوفان سے متاثرہ ریاست ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
طوفان کے باعث اب تک دو ہزار سے زائد کرونا ویکسی نیشن سینٹرز بند ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے 60 لاکھ افراد تک ویکسین کی خوراکیں پہنچانے کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
امریکہ 14 فروری سے شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ برفانی طوفان ہے جس نے کئی ریاستوں میں نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ریاست اوکلاہوما، آرکنساس اور ٹیکساس میں شدید موسم کی وجہ سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں۔
برفانی طوفان کے سبب مختلف حادثات میں ملک بھر میں اب تک کم از کم 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کی جانب سے ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دیے جانے کے بعد ریاست کے شہریوں کے لیے اضافی فنڈنگ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
تیل اور گیس پیدا کرنے والی امریکی ریاست ٹیکساس میں لاکھوں لوگ بجلی سے محروم ہیں جب کہ ریاست کی آدھی سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔
اسرائیل میں معمولاتِ زندگی بحال کرنے کا آغاز
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ نصف آبادی کو کرونا ویکسین لگائے جانے کے بعد وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں۔
اسرائیل میں دکانیں کھول دی گئی ہیں۔ تاہم تفریحی مقامات، جمز، ہوٹلز اور تھیٹرز میں صرف ان لوگوں کو جانے کی اجازت ہو گی جنہیں یا تو ایک ہفتہ قبل کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جا چکی ہیں یا پھر وہ افراد جو وبا سے صحت یاب ہو چکے ہیں اور ان میں قوتِ مدافعت پیدا ہو چکی ہے۔
ان لوگوں کو وزارتِ صحت کی ایپ پر 'گرین پاس' جاری کیا جائے گا۔
اس دوران فیس ماسک پہننے اور سماجی دوری کی پابندیاں نافذ رہیں گی جب کہ عبادت گاہوں میں نصف تعداد کے ساتھ عبادت کی اجازت ہو گی۔
امریکہ میں کرونا سے پانچ لاکھ اموات، صدر بائیڈن تقریب سے خطاب کریں گے
کرونا وائرس سے پانچ لاکھ امریکیوں کی ہلاکت اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کے لیے وائٹ ہاؤس میں پیر کو شمع روشن کرنے اور خاموشی اختیار کرنے کی تقریب منعقد ہو گی۔
امریکہ میں کرونا سے اب تک چار لاکھ 98 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی وبا سے پانچ لاکھ اموات کا ہندسہ عبور ہونے کی توقع ہے۔
اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب منعقد کی جا رہی ہے جس میں صدر جو بائیڈن غروبِ آفتاب کے وقت خطاب کریں گے اور عالمی وبا سے لڑتے ہوئے جان دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔
تقریب میں خاتونِ اول جل بائیڈن، نائب صدر کاملا ہیرس اور ان کے شوہر ڈگلس ایمہوف بھی شریک ہوں گے۔
پاکستان میں کرونا سے یومیہ اموات کی تعداد میں کمی
پاکستان میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی یومیہ تعداد میں بدستور کمی واقع ہو رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے شکار مزید 16 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد اموات کی کُل تعداد 12 ہزار 617 تک پہنچ گئی ہے۔
پیر کو رپورٹ ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد نومبر 2020 کے بعد کم ترین یومیہ تعداد ہے۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں کرونا کے مزید ایک ہزار 160 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ 72 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جن میں سے پانچ لاکھ 35 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔