رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:35 9.3.2021

پاکستان میں ویکسی نیشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ویکسی نیشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز 10 مارچ سے ہو رہا ہے۔

ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں بڑی عمر کے شہریوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

واضح رہے کہ بڑی عمر کے شہریوں کو پہلے سے رجسٹریشن کے لیے کہا گیا تھا۔

ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جائے گا اور اسی میسج میں ان کو ہدایات بھی مل جائیں گی کہ ویکسین لگوانے کے حوالے سے کیا کرنا ہے۔

14:58 9.3.2021

پاکستان میں کیسز مثبت آنے کی شرح 4.2 فی صد ہو گئی

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ وبا سے متاثرہ 16 ہزار 349 افراد زیرِ علاج ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 1353 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جب کہ 54 اموات ہوئی ہیں۔

حکام کے مطابق ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 4.2 فی صد رہی۔

متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 31 ہزار 786 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کے بعد ٹیسٹ کی مجموعی تعداد 92 لاکھ 78 ہزار ہو گئی ہے۔

17:35 9.3.2021

کرونا بحران میں خواتین پر کیا گزری؟

کرونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں خواتین کے روزگار کو مردوں سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ زیادہ تر خواتین سیلونز اور ڈے کیئر جیسے شعبوں میں کام کرتی ہیں جنہیں عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا۔ سعدیہ زیب رانجھا نے امریکہ کی کچھ خواتین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہےکہ گزشتہ ایک سال میں ان پر کیا گزری؟

کرونا بحران میں خواتین پر کیا گزری؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:57 0:00

13:32 10.3.2021

کیسز میں اضافہ، پاکستان میں پھر پابندیاں نافذ، تعلیمی ادارے بند

پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ایک بار پھر پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود اور وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اجلاس کے بعد حکومتی فیصلوں سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں دفاتر میں حاضری 50 فی صد رکھی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں تفریحی پارک شام چھ بجے بند کیے جائیں گے۔ ان کے بقول صوبے اور شہر اپنے حالات کے مطابق پارک مزید جلدی بھی بند کر سکتے ہیں۔

فیصل سلطان نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ شادی ہالوں اور سنیما گھروں میں 15 مارچ سے سرگرمیاں مکمل بحال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن کیسز کی بڑھتی ہوئی صورتِ حال کے باعث پابندیاں برقرار رہیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ کھلی فضا میں سرگرمیوں کی اجازت 15 اپریل تک برقرار ہے۔ اس وقت صورتِ حال دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ جب کہ تقاریب میں 300 سے زائد افراد کی شرکت ممنوع ہو گی۔ اسی طرح ہوٹلوں میں انڈرو سروسز 15 اپریل تک بند رہیں گی۔

فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں اور قصبوں میں اسمارٹ یا مائیکرو لاک ڈاؤن ضرورت کے مطابق لگایا جائے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پانچ کروڑ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان، سندھ اور بلوچستان میں صورتِ حال ابھی بہتر ہے۔ وہاں کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں 50 فی صد طلبہ روزانہ آئیں گے۔ اور سماجی دوری سمیت دیگر پابندیوں پر عمل کرتے ہوئے تعلیمی عمل جاری رہے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ساتھ ساتھ پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ، فیصل آباد، گجرات اور گجرانوالہ جب کہ خیبرپختونخوا میں پشاور میں 15 مارچ سے آئندہ دو ہفتے کے لیے تعلیمی ادارے بند ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا اطلاق وہاں نہیں ہوگا جہاں امتحانات ہو رہے ہیں۔ انتظامیہ امتحانات لے سکتی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG