امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک شہری نے کسی رشتہ دار یا قریبی دوست کو کھویا: سروے
امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک شہری کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے انہوں نے اپنے کسی رشتہ دار یا قریبی دوست کو کھویا ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' اور شکاگو یونیورسٹی کے نیشنل اوپینیئن ریسرچ سینٹر کے ایک نئے سروے میں مختلف آرا سامنے آئیں۔
ایک طرف تو وائرس کے بارے میں عوام کی پریشانی ختم ہو رہی ہے جب کہ دوسری جانب سوگ منانے والے افراد محفوظ رہنے کے لیے مسلسل جدوجہد پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں۔
سروے کے مطابق ایسے میں جب کہ ویکسینز اس وبا کے خاتمے کے لیے حقیقی امید دلا رہی ہیں۔ پھر بھی ہر تین میں سے ایک امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ویکسین نہ لگوانے والوں کے لیے سروے میں سامنے آیا کہ سب سے زیادہ ہچکچاہٹ نوجوان بالغ افراد، کالج کی ڈگری نہ رکھنے والے افراد اور ری پبلکن پارٹی کے ارکان میں نظر آتی ہے ۔
پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ سے متجاوز، ساڑھے 18 ہزار زیرِ علاج
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد چھ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 2701 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد چھ لاکھ 198 ہو گئی ہے۔
متاثرہ افراد میں سے پانچ لاکھ 68 ہزار صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ 13 ہزار 430 اموات ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں اب بھی 18 ہزار 703 افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سے 1709 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
حکام نے پاکستان میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں اضافے کی بھی تصدیق کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 6.5 رہی۔
واضح رہے کہ ملک میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
کرونا سے متاثر سیاحت کی صنعت کب بحال ہوگی؟
کرونا وائرس نے پاکستان میں کئی شعبہ جات، کاروبار اور صنعتیں متاثر کی ہیں۔ سیاحت بھی ایسا ہی ایک شعبہ ہے جس پر عالمی وبا نے کاری ضرب لگائی ہے۔ اس صنعت سے منسلک کئی افراد کا روزگار بھی وبا نے چھین لیا ہے۔ مزید تفصیلات بتا رہی ہیں نخبت ملک اس رپورٹ میں۔
امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان ویکسین کے لیے فنڈز دینے پر رضا مند
بھارت کے سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان کے رہنما ایشیا کے لیے کرونا ویکسین کی تیاری اور اس کی ترسیل کے لیے فنڈز دینے پر رضا مند ہو گئے ہیں جس کے بعد آئندہ برس کے اختتام تک ایک ارب کرونا ویکسین ایشیا بھر میں فراہم کی جائیں گی۔
سیکریٹری خارجہ ہرش وردھن کا چاروں ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ورچوئل کانفرنس کے بعد جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ چاروں ممالک ویکسین کی تیاری اور ترسیل کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر راضی ہیں۔ تاکہ ویکسین کی خطے میں فراہمی کو تیز کیا جا سکے۔
بھارت اپنی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ کی تیار کردہ ویکسین بنائے گا۔ جب کہ اس کے لیے فنڈز امریکہ اور جاپان کی طرف سے دیے جائیں گے۔
دوسری طرف آسٹریلیا تربیت کے لیے فنڈز کی فراہمی کے علاوہ ویکسین کی ترسیل کے لیے معاونت فراہم کرے گا۔
چار ممالک کا گروپ ‘کواڈ’ چاہتا ہے کہ عالمی سطح پر کرونا ویکسین کی فراہمی کو بڑھایا جائے۔ تاکہ جنوب مشرقی ایشیا اور دنیا بھر میں بڑھتی چین کی ویکسین سفارت کاری کا مقابلہ کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ بھارت، دنیا بھر میں ویکسین تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔