اردن میں آکسیجن نہ ملنے پر سات اموات، وزیرِ صحت برطرف
اردن کے ایک اسپتال میں کرونا وائرس سے متاثرہ زیرِ علاج سات مریضوں کی آکسیجن ختم ہونے کے سبب ہونے والی اموات کے باعث وزیرِ صحت کو برطرف کر دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہفتے کو دارالحکومت عمان کے سرکاری نیو سالٹ اسپتال کے انتہائی نگہداشت، میٹرنٹی اور کرونا وارڈز میں آکسیجن کی فراہمی منقطع ہوئی۔
ہلاکتوں کے بعد وزیرِ اعظم بشر الخصاونہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیرِ صحت نذیر عبیدت کو بر طرف کر دیا ہے۔
عوام سے معذرت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت واقع کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
دوسری طرف نذیر عبیدت کا کہنا تھا کہ وہ ہلاکتوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ جو کہ وارڈز میں آکسیجن کی لگ بھگ ایک گھنٹے تک دستیابی نہ ہونے کے سبب ہوئیں۔
اردن کے بادشاہ عبد اللہ نے بھی واقعے کے بعد اسپتال کا دورہ کیا۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اموات کے بعد ہلاک ہونے والے مریضوں کے سراپا احتجاج سیکڑوں لواحقین کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔
ناروے: ایسٹرا زینیکا ویکسین کے سائیڈ ایفکٹس سامنے آنے پر ویکسینیشن مہم معطل
ناروے کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ تین طبی اہلکار، جنہیں حال ہی میں ‘ایسٹرا زینیکا’ ویکسین لگائی گئی تھی، خون رسنے، بلڈ کلاٹس بننے اور پلیٹ لیٹس میں کمی کی وجہ سے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
سائڈ ایفکٹس کے کیسز سامنے آنے کے بعد ناروے میں ویکسین لگانے کا عمل جمعرات سے روک دیا گیا ہے۔ جب کہ ڈنمارک اور آئس لینڈ میں بھی ویکسین کی فراہمی روک دی گئی ہے۔
ناروے کی میڈیسن ایجنسی سے منسلک سینئر ڈاکٹر سیگرد ہورتیمو کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ وہ ابھی نہیں جانتے کہ مذکورہ کیسز کا تعلق ویکسین سے ہے یا نہیں۔
دوسری طرف ویکسین بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی ایک کروڑ 70 لاکھ لگائی جانے والی خوراکوں پر مشتمل مرتب کردہ تحقیق سے ایسی کسی شکایت کے ثبوت نہیں ملے۔
ایسٹرا زینیکا کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کوئی شکایت ویکسین کے آزمائشی عمل کے دوران بھی سامنے نہیں آئی۔
خیال رہے کہ تینوں اہلکاروں کی عمریں 50 سال سے کم ہیں۔
وبا کی تیسری لہر: پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں جزوی لاک ڈاؤن، اسلام آباد میں فیس ماسک لازمی قرار
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کرونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش< نظر حکام نے وبا سے متاثرہ علاقوں میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔
صوبائی حکام کی طرف سے متعدد شادی ہالز اور ریستورانوں کو پابندیوں پر عمل درآمد نہ کرنے پر جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔
دارالحکومت اسلام آباد میں حکام نے فیس ماسک لازمی قرار دیتے ہوئے عوامی مقامات پر سماجی دوری کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک چھ لاکھ سے زائد افراد اس وبا سے متاثر اور 13 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں مزید 32 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد ساڑھے 13 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمارکے مطابق پاکستان میں وبا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 13 ہزار 508 ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے حکام نے کہا تھا کہ ملک میں وبا سے تیسری لہر آ چکی ہے جس کے بعد کئی شہروں میں تعلیمی ادارے بند کرنے اور متعدد علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں وبا سے صرف مارچ کے مہینے میں 614 اموات ہو چکی ہیں۔