یورپ کے کئی ملکوں کا ایسٹرازینیکا ویکسین لگانے سے انکار
یورپ کے کئی ملکوں نے حفاظتی خدشات کے باعث برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ویکسین کا استعمال روک دیا ہے۔
پیر کو جرمنی، فرانس، اٹلی اور اسپین نے بعض افراد کو ویکسین دیے جانے کے بعد اُن کے خون جمنے اور خون کے نمونے متاثر ہونے کی شکایات سامنے آنے پر ایسٹرازینیکا کی ویکسین کا استعمال روکنے کا اعلان کیا۔
بعض ملکوں نے شکایت کی تھی کہ ویکسین لگانے کے بعد مریضوں کے خون کے سفید خلیوں کی تعداد میں تشویش ناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے جب کہ بعض کیسز میں مریضوں کا خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔
تاہم دوا ساز کمپنی اور عالمی ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ ویکسین سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ویکسین مخالف اکاؤنٹس کی بوچھاڑ، حل کیا ہے؟
دنیا بھر میں جہاں کرونا ویکسین کی مہمات زوروں پر ہیں، وہیں فیس بک، انسٹاگرام، اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے کہا ہے کہ وہ ویکسین سے متعلق غلط معلومات کے خلاف مہم شروع کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عرصے سے ویکسین مخالف پراپیگنڈہ کھلے عام کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان خیالات کا تدارک آسان نہیں ہوگا۔
ٹوئٹر نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ کرونا وائرس کی مختلف ویکسینز کے بارے میں گمراہ کن معلومات کو اپنے پلیٹ فارم سے ہٹا دے گا۔
اس سے پہلے کرونا وائرس کے بارے میں گردش کرنے والے 'سازشی نظریات' پر بھی کمپنی کی یہی پالیسی رہی ہے۔ لیکن اپریل 2020 سے اب تک اس بارے میں غلط معلومات پر مبنی محض 8400 ٹوئٹس ہی ہٹائی جا سکی ہیں۔
عالمی وبا کے بارے میں لاکھوں اکاؤنٹ رکھنے والے کئی مشہور اکاؤنٹس کی جانب سے غلط معلومات پھیلائی جاتی رہی ہیں۔
'ویکسین سے لوگوں کے متاثر ہونے کا تعلق ثابت نہیں ہوا'
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اقوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسی نیشن مہم کو نہ روکیں جب کہ ادارے نے اپنے مشاورتی پینل سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ویکسین کے نقصان دہ ہونے کی شکایات کا جائزہ لے اور اپنی تجاویز پیش کرے۔
عالمی ادارۂ صحت کی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس منگل کو متوقع ہے جس میں ویکسین کی افادیت پر بات چیت کی جائے گی۔
ڈبلیو ایچ او کے چوٹی کے سائنس دانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کرونا ویکسین سے اموات کا کوئی ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم کی سربراہ سومیا سوامیناتھن کا کہنا ہے کہ "ہمیں لوگوں کو افراتفری کا شکار نہیں کرنا چاہیے۔ جن ملکوں سے ویکسین کی شکایت سامنے آ رہی ہے وہاں اب تک ویکسین سے لوگوں کے متاثر ہونے کا تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔"
ہانگ کانگ: نومولود بچوں کو بھی قرنطینہ کرنے پر والدین پریشان
ایشیا کے اقتصادی مرکز ہانگ کانگ میں خاندانوں کو کرونا وائرس سے متعلق سخت ضابطوں کے سبب ایک دوسرے سے علیحدگی اور صدموں کا سامنا ہے۔ کئی بچوں کو والدین سے الگ کیا جا رہا ہے حتیٰ کہ نومولود بچوں کو بھی 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔
ہانگ کانگ کے حکام نے کہا ہے کہ بچوں سمیت ہر وہ شخص جس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے اسے اسپتال جانا ہو گا جب کہ ان کے قریبی تعلق میں رہنے والے افراد کو عارضی طور پر بنائے گئے قرنطینہ مراکز بھجوایا جائے گا، چاہے ان کا ٹیسٹ منفی ہی کیوں نہ آیا ہو۔
ایک والدہ کا کہنا ہے کہ یہ پاگل پن ہے۔ گزشتہ ہفتے ان کے بچے کو اس وقت ان سے الگ کر دیا گیا جب وہ ماں کا دودھ پی رہا تھا۔ ماں کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا کے سبب دیگر ترقی یافتہ شہروں میں خاندانوں کو الگ کرنا معمول نہیں ہے۔