بھارت میں چار ماہ بعد کرونا کے ریکارڈ 43 ہزار 846 کیس
بھارت میں تقریباً چار ماہ بعد کرونا وائرس کے ریکارڈ 43 ہزار 846 یومیہ کیس سامنے آئے ہیں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پنجاب، مہاراشٹر، مدھیا پردیش اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں کیسز کے تیزی سے بڑھنے کے باعث ان ریاستوں کے کئی اضلاع میں لاک ڈاؤن، تعلیمی اداروں کی بندش اور اجتماعات پر پابندیاں لگانے پر غور ہو رہا ہے۔
بھارت میں اتوار کو سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق 197 افراد اس مہلک وائرس کے باعث ہلاک بھی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق ریاست مہاراشٹر، پنجاب، کیرالہ، کرناٹک اور گجرات میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ صرف مہاراشٹر میں 27 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں اب تک ایک کروڑ 16 لاکھ کے لگ بھگ کیس جب کہ ایک لاکھ 59 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
پاکستان میں کرونا کے مزید تین ہزار 667 کیس رپورٹ، 44 ہلاکتیں
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں تین ہزار 667 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ روز 41 ہزار 960 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے تین ہزار 667 ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ یوں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 8.7 فی صد رہی۔
اس طرح پاکستان میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد چھ لاکھ 26 ہزار 802 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں ویکسی نیشن مہم ایک روز کے لیے اتوار کو معطل کی گئی ہے تاکہ ویکسی نیشن سینٹرز کو جراثیم کش اسپرے سے صاف کیا جا سکے۔
کرونا پابندیوں کے خلاف مختلف یورپی ملکوں میں مظاہرے، لندن میں درجنوں گرفتاریاں
کرونا وبا کے پیشِ نظر عائد کردہ پابندیوں کے خلاف ہفتے کو برطانیہ اور کئی یورپی ممالک میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ برطانیہ اور جرمنی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی کے باوجود احتجاج کرنے پر پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
کرونا وبا کی تیسری لہر کے دوران لاک ڈاؤن کے خلاف یورپ کے دیگر ممالک آسٹریا، بیلجیم، کروشیا، فن لینڈ، پولینڈ، رومانیہ، سوئیڈن اور سوئٹزر لینڈ میں بھی مظاہرے کیے گئے۔
کیسل میں مظاہروں میں 20 ہزار سے زائد مظاہرین نے شرکت کی اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
کیسل کے مرکزی حصے میں مظاہرین نے عدالتی پابندی کے باوجود مظاہرہ کیا اور مظاہرین کی اکثریت نے کرونا وبا سے محفوظ رہنے کے لیے لازمی ماسک بھی نہیں پہنے تھے۔
جرمن ذرائع ابلاغ کے مطاابق کچھ مظاہرین نے پولیس افسران اور صحافیوں پر حملے بھی کیے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔
یورپ کے کئی شہروں میں ہفتے کو کرونا پابندیوں کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی۔
میامی کے ساحل پر لوگوں کا ہجوم روکنے کے لیے کرفیو
کرونا وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکام نے ہفتے کو ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے ساحل پر کرفیو لگا دیا جس سے موسمِ بہار کی چھٹیاں منانے کے لیے ساحل کا رُخ کرنے والوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ویک اینڈ پر بڑی تعداد میں لوگ میامی کے ساحل کا رُخ کر رہے تھے جس کی وجہ سے کرونا کے پھیلاؤ کے خدشات جنم لے رہے تھے۔
شہری انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ یہ پابندی 72 گھنٹے تک برقرار رہے گی۔ پابندی کے تحت سیاحوں کے پرکشش مقام ساؤتھ بیچ کے ہوٹل اور ریستوران آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے جب کہ ساؤتھ بیچ کو ملانے والے تین بڑے پل بھی رات 10 بجے بند کر دیے جائیں گے۔
البتہ، مقامی افراد اور ریستورانوں پر کام کرنے والے افراد کو اس پابندی سے استثنٰی ہو گا۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سال میامی کے ساحل پر لوگوں کا رش گزشتہ سال کی نسبت زیادہ تھا جس کی وجہ کئی ریاستوں میں سرد موسم اور کرونا پاببدیاں ہیں۔ لہذٰا لوگ جوق در جوق میامی کا رُخ کر رہے ہیں۔