کئی ملکوں کو ویکسین کی فراہمی میں تاخیر ہو گی: سیرم انسٹی ٹیوٹ
بھارت کے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بنانے والے سیرم انسٹی ٹیوٹ نے سعودی عرب، مراکش اور برازیل کو مطلع کیا ہے کہ ویکسین کی بڑھتی طلب کے باعث ان ملکوں کو ویکسین کی فراہمی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
سیرم انسٹی ٹیوٹ کرونا وائرس کے مرض کے خلاف اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بڑی تعداد میں ویکسین بنا رہا ہے۔
ایک کروڑ سولہ لاکھ کیسز کے ساتھ بھارت دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں کیسز میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکہ دو کروڑ 97 ہزار متاثرہ افراد کے ساتھ متاثرہ سرِ فہرست ملک ہے جب کہ برازیل ایک کروڑ 19 لاکھ کیسز کے ساتھ دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔
سیرم انسٹی ٹیوٹ کو اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ اس نے بھارت میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعداد میں یہ دوا دوسرے ممالک کو عطیے کے طور پر فراہم کی ہے۔
روسی ویکسین 'اسپوتنک فائیو' بھارت میں تیار ہو گی
روس کے سوورن ویلتھ فنڈ نے بھارتی دوا ساز کمپنی ورچو بائیو ٹیک پرائیوٹ لمیٹڈ کے ساتھ سالانہ 'اسپوتنک فائیو' کی 20 کروڑ خوراکیں تیار کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔
روس کی جانب سے یہ چوتھا معاہدہ ہے جس کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس طرح روسی ویکسین کی 70 کروڑ خوراکیں بھارت میں تیار ہوں گی۔
گزشتہ ہفتے بھارت کی دو کمپنیوں کے ساتھ ویکسین بنانے کا اعلان سامنے آیا تھا۔ گلینڈ فارما پرائیوٹ لمیٹڈ نے چین کی کمپنی فاسن فارما کے ساتھ مل کر 252 ملین خوراکیں بنانے کا معاہدہ کیا تھا۔
پاکستان میں کاروباری مراکز رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ
پاکستان میں کرونا وبا کی تیسری لہر میں شدت کے باعث حکام نے مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
پیر کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرِ صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں کرونا کیسز بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
این سی او سی کے اعلامیے کے مطابق ریستورانوں میں ان ڈور ڈائننگ پر پابندی ہو گی جب کہ آؤٹ ڈور ڈائننگ کی رات 10 بجے تک اجازت ہو گی۔
ضروری اشیا کے علاوہ دیگر کاروبار اور دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہفتے میں دو دن کاروبار مکمل طور پر بند رہیں گے۔
این سی او سی کے مطابق صرف 300 افراد کو کرونا ایس او پیز کے تحت کھلے مقامات پر جمع ہونے کی اجازت ہو گی۔ البتہ ہر قسم کی ان ڈور مذہبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر پابندی ہو گی۔
نئی پابندیوں کے تحت پارکس، تفریحی مقامات، جاگنگ ٹریکس اور سنیما گھر بند رہیں گے۔
انٹر ٹرانسپورٹ سروس میں 50 فی صد جب کہ ریلوے میں 70 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی۔
لاک ڈاؤن کے دوران مہاجر بننے پر مجبور بھارتی مزدوروں کی مشکلات پر ڈاکیومینٹری
بھارت میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہروں میں بے روزگار ہونے کے بعد سیکڑوں میل پیدل یا سائیکل پر اپنے گھروں کو جانے والے مزدوروں کے سفر پر مبنی ایک ڈاکیومینٹری ریلیز کی جا رہی ہے۔
ڈائریکٹر ونود کاپڑی کی دستاویزی فلم 'KMS 1232' میں سات افراد کا وہ 'سفر' دکھایا گیا ہے جو انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران شہروں میں روزگار کھونے کے بعد میلوں پیدل چل کر اپنے گھروں کی طرف روانگی کے دوران کیا اور سہا۔
بھارت میں گزشتہ برس مارچ سے جون تک لگنے والے لاک ڈاؤن کے دوران 10 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے۔ انہیں شہر چھوڑ کر اپنے آبائی گھروں کو جانا پڑا تھا۔ ان میں سے بہت سے افراد کو پیدل ہی گھر جانا پڑا جس دوران انہوں نے سیکڑوں میل کا سفر طے کیا، جسے میڈیا اپنی رپورٹوں میں نشر کرتا رہا تھا۔