بھارت میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسز، مہاراشٹر میں رات کا کرفیو
بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت آ رہی ہے، حکام نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹر میں اتوار سے رات کا کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملک کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 62 ہزار 714 نئے کرونا کیسز اور 312 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
یہ کیسز گزشتہ برس اکتوبر کے وسط کے بعد سب سے زیادہ یومیہ کیسز ہیں۔
ریاست مہاراشٹر اور اس کے تجارتی مرکز ممبئی میں ایک روز میں ریکارڈ چھ ہزار 123 کرونا کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ریاست میں اتوار سے رات کا کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت میں اب تک کرونا کے ایک کروڑ 19 لاکھ 71 ہزار 624 کیس رپورٹ جب کہ ایک لاکھ 61 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
کرونا کی تیسری لہر میں شدت، پاکستان میں ان ڈور، آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر فوری پابندی
پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر میں شدت کے باعث حکومتِ پاکستان نے ان ڈور اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں کرونا کیسز مثبت آنے کی شرح آٹھ فی صد سے زائد ہوئی وہاں شادی کی آؤٹ ڈور تقریبات پر بھی پانچ اپریل سے پابندی لگا دی جائے گی۔ البتہ صوبوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اس سے قبل بھی یہ پابندی لگا سکتے ہیں۔
یہ فیصلے اتوار کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد کیے گئے۔
این سی او سی نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ جن علاقوں میں کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے وہاں 29 مارچ کو سے لاک ڈاؤن میں سختی کی جائے گی۔
این سی او سی کے مطابق شادی کی تقریبات کے سوا تمام سماجی، ثقافتی، سیاسی، کھیلوں کی ان ڈور اور آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگر صورتِ حال یہی رہی تو پاکستان میں صورتِ حال گزشتہ سال جون سے بھی بدتر ہو سکتی ہے جب اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا تھا اور اموات بھی زیادہ ہو رہی تھیں۔
کرونا کی تیسری لہر، پہلی اور دوسری سے زیادہ خطرناک ہے: وزیرِ اعظم عمران خان
پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی تیسری لہر شدید ہے۔ اگر احتیاطی تدابیر نہ اپنائیں تو اسپتال مریضوں سے بھر جائیں گے۔
اتوار کی شام کرونا کی صورتِ حال سے متعلق قوم کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں عمران خان نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے دوران وہ احتیاط نہ کر سکے جس کے باعث اُنہیں کرونا ہوا۔ تاہم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اور اُن کی اہلیہ اب بہتر ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام ماسک کا استعمال لازمی کریں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے۔
عمران خان کے بقول ہم ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں کہ ہم پابندیاں لگا کر لوگوں کو کھانا فراہم کریں۔
وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگ وینٹی لیٹرز اور آکسیجن پر جا رہے ہیں اگر یہی رُحجان رہا تو اسپتال مریضوں سے بھر جائیں گے۔
ان کے بقول دنیا بھر میں کرونا ویکسین کی قلت ہو گئی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ایس او پیز پر عمل کریں۔ شادیوں، بند مقامات اور رش والی جگہوں پر نہ جائیں۔