بھارت میں 68 ہزار سے زیادہ نئے کیسز رپورٹ
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 68 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ اکتوبر کے بعد کسی بھی ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
بھارتِ کی وزارتِ صحت کے مطابق ریاست مہاراشٹرا، کرناٹکا، پنجاب، مدھیا پردیش، گجرات، کیرالہ، تامل ناڈو اور چھتیس گڑھ وہ ریاستیں ہیں جہاں یومیہ ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 13 لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور ملک میں ایکٹو کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 21 ہزار 808 ہے۔
عالمی وبا سے بھارت میں کل ایک لاکھ 61 ہزار 843 اموات بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔
امریکہ میں ویکسی نیشن مہم کے باوجود کیسز میں اضافہ
امریکہ میں عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے جہاں ایک جانب ملک بھر میں کرونا ویکسی نیشن مہم جاری ہے وہیں یومیہ کیسز کی تعداد میں بھی کمی واقع نہیں ہو رہی۔
امریکہ میں متعدی امراض کے ماہر اور کرونا وبا پر وائٹ ہاؤس کی مشاورتی ٹیم کے رکن ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے ملک میں کرونا کے حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا ہے کہ بعض ریاستوں نے کرونا پابندیاں اٹھانے میں بہت جلد بازی کی ہے اور کرونا کیسز میں حالیہ اضافہ اسی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے 'سی بی ایس' نیوز سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ میں کرونا وبا کی تیسری لہر کے خدشے کو دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان میں دسمبر 2020 کے بعد ریکارڈ اموات
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 100 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ ایک روز کے دوران اموات کی یہ تعداد 23 دسمبر 2020 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 14 ہزار 356 تک پہنچ گئی ہے۔
عالمی وبا سے پاکستان میں مزید چار ہزار 84 مریض متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد چھ لاکھ 63 ہزار 200 ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کرونا کے شکار چھ لاکھ 278 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ ملک میں ایکٹو کیسز کی تعداد 45 ہزار سے زیادہ ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 46 ہزار 269 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے اور اب تک ایک کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
کرونا بحران، ایشیائی امریکی طبی عملے کو بھی امتیازی رویوں کی شکایت
امریکہ میں صحت کے شعبے سے وابستہ ایشیائی امریکی عملے کو گزشتہ ایک سال کرونا کی وبا کے دوران نفرت پر مبنی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کرونا وائرس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا۔
ایشیائی امریکیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے ادارے "اسٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ" نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ برس مارچ سے رواں سال فروری کے دوران ایشیائی امریکیوں کے خلاف نفرت پر مبنی 3795 حملے کیے گئے۔
ان حملوں میں سے 500 واقعات رواں برس کے آغاز سے فروری کے آخر تک ریکارڈ کیے گئے۔
ایشیائی امریکی شہریوں کے خلاف گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں ہونے والے حملوں میں چھ ایشیائی خواتین ہلاک ہوئی تھیں۔