آصف زرداری نے ویکسین لگوا لی
کرونا وائرس نے ترقی کے اہداف کو دس سال پیچھے دھکیل دیا: اقوامِ متحدہ
کرونا بحران نے عالمی معیشت کو گزشتہ 90 سال کی بد ترین کساد بازاری میں دھکیل دیا ہے اور معاشروں کے غیر محفوظ طبقے اور کم ترقی یافتہ ممالک کے عوام کے بری طرح متاثر ہونے سے یکساں ترقی کا خواب مزید دھندلا پڑ گیا ہے۔
ساٹھ عالمی تنظیموں کی تیار کردہ تازہ ترین رپورٹ 'سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ رپورٹ 2021' میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اقتصادی سرگرمیوں کا رک جانا اور اس بحران سے مقابلے کے لیے دنیا کی امیر اور کم ترقی یافتہ ممالک کی صلاحیت میں پہلے سے موجود فرق ، یہ دو ایسے عوامل ہیں جنہوں نے اقتصادی امکانات کو مزید سخت ٹھیس پہنچائی ہے۔
رپورٹ مرتب کرنے والی ٹاسک فورس نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ عالمی وبا سے تقریباً ساڑھے گیارہ کروڑ ملازمتوں کے مواقع غائب ہو گئے ہیں جب کہ 12 کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کے چنگل میں جا پھنسے ہیں۔
پاکستان کے صدر عارف علوی کا کرونا ٹیسٹ مثبت
پنجاب کے متاثرہ شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے بعد حکام پابندیوں میں سختی کے علاوہ عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
اتوار کو اپنے ایک مختصر ویڈیو بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کرونا کی تیسری لہر، پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔
پاکستان میں کرونا وبا کے حوالے سے قائم ادارے 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' (این سی او سی) کے مطابق اس وقت پاکستان میں کرونا کے 46 ہزار متحرک کیس ہیں۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ اموات صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جب کہ اس کے بعد صوبہ پنجاب میں اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔