کرونا کیسز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ارجنٹائن میں رات کے کرفیو کا اعلان
دو روز سے لگاتار کرونا کے ریکارڈ کیسز سامنے آنے کے بعد ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنینڈز نے بدھ کو تین ہفتوں کے لیے رات کے کرفیو کا اعلان کیا ہے۔
ارجنٹائن کے صدر نے اپنی سرکاری رہائش گاہ (جہاں وہ کرونا سے متاثر ہونے کے بعد سیلف آئسولیشن اختیار کیے ہوئے ہیں) سے ریکارڈ کیے جانے والے پیغام میں کہا کہ "کرفیو کا نفاذ جمعے سے 30 اپریل تک روزانہ آدھی رات سے صبح چھ بجے تک ہو گا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ کرفیو کا اطلاق بالخصوص ملک کے شہری مراکز اور ایسے علاقوں میں ہو گا جہاں کرونا وائرس کے خطرات سب سے زیادہ ہیں۔
علاوہ ازیں ارجنٹائن میں ریستوران اور بارز رات 11 بجے بند کر دیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ بدھ کو ارجنٹائن میں کرونا کے 22 ہزار سے زائد نئے کیس رپورٹ ہوئے تھے۔
ارجنٹائن میں کرونا وائرس کے سامنے آنے والے نئے کیسز میں سے 13 ہزار 500 سے زائد دارالحکومت بیونس آئرس میں رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر میں شدت
پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ نو ماہ بعد ملک میں مسلسل دوسرے روز پانچ ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پاکستان میں 5312 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ عالمی وبا کے شکار مزید 105 مریض دم توڑ چکے ہیں۔
پاکستان میں تشویش ناک حالت میں مبتلا مریضوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جن کی تعداد بڑھ تک 4116 تک جا پہنچی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایکٹو کیسز کی تعداد 69 ہزار 811 ہے جب کہ مصدقہ کیسز کی مجموعی تعداد سات لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکہ میں کرونا کی برطانوی قسم سب سے زیادہ عام ہوگئی: سی ڈی سی
امریکہ میں وبائی امراض کے نگراں ادارے 'سی ڈی سی' نے کہا ہے کہ امریکی ریاستوں میں اس وقت کرونا وائرس کی وہ قسم سب سے زیادہ عام ہے، جو برطانیہ میں دریافت ہوئی تھی۔
وائٹ ہاؤس میں کرونا وائرس کی رسپانس ٹیم کی بریفنگ کے دوران سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیل ولنسکی نے کہا کہ کرونا وائرس کی یہ نئی قسم نوجوان امریکیوں میں انتہائی متعدی ہے، جس کی وجہ سے پچھلے کئی ہفتوں میں تیزی سے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
سی ڈی سی کی ڈائریکٹر نے تازہ ترین اعداد و شمار پیش کیے جن کے مطابق پچھلے ایک ہفتے میں امریکہ میں روزانہ دو اعشاریہ تین فی صد کے اضافے سے اوسطاً 62 ہزار 878 کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ان کے مطابق ڈے کئیر اور سپورٹس کے مراکز کے گرد رہنے والے نوجوانوں میں زیادہ تعداد میں کیسز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بھارت میں سیاسی اجتماعات اور مذہبی تہواروں کے باعث کیسز میں تیزی سے اضافہ
بھارت میں گزشتہ دو ماہ کے دوران حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزیوں کے باعث کرونا کیسز کی تعداد میں 13 گنا اضافہ ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور دیگر سیاسی قائدین کی منعقد کی گئی سیاسی ریلیوں، مذہبی تہواروں اور دیگر اجتماعات میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی شرکت کے سبب کرونا وائرس کی نئی لہر میں متاثرہ افراد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ملک بھر میں ریاستوں میں نقل و حرکت پر مختلف پابندیاں عائد ہیں تاہم مرکزی حکومت اور صنعت کار قومی سطح پر لاک ڈاؤن کی مخالفت کر رہے ہیں۔
گزشتہ برس ہونے والے ملک گیر لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت کی معیشت شدید متاثر ہوئی تھی جب کہ نچلے طبقے کو معاشی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود بھارت کی شمالی ریاست اُترا کھنڈ میں دریائے گنگا کے کنارے ’ہری دوار‘ کے مقام پر 12 سال میں ایک بار ہونے والے ہندو تہوار ’کمبھ کے میلے‘ کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس میلے میں ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔