بھارت میں مزید دو ہزار 624 اموات، تین لاکھ 46 ہزار کیسز رپورٹ
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے تین لاکھ 46 ہزار 786 ریکارڈ یومیہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ جب کہ وبا کے سبب ہفتے کو ریکارڈ دو ہزار 624 اموات رپورٹ ہوئیں۔
وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی میں 348 اموات سامنے آئیں۔ جب کہ شہر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت ہے۔
دہلی میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 24 ہزار سے زائد افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تشخیص ہوئی۔
بھارت میں سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹرا میں ہفتے کو مہلک وائرس کے سبب 773 افراد ہلاک ہوئے۔ جب کہ 66 ہزار سے زائد کرونا کیسز رپورٹ کیے گئے۔
جنوبی ایشیائی ملک بھارت میں اب تک کرونا وبا سے ایک کروڑ 66 لاکھ سے زائد افراد وبا سے متاثر اور ایک لاکھ 89 ہزار سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم کا بھارتی عوام سے اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کرونا سے شدید متاثرہ پڑوسی ملک بھارت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
عمران خان نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کرونا کی مہلک ترین لہر کا سامنا کرنے والے بھارت کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک سمیت دنیا بھر میں وبا کی زد میں آنے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انسانیت پر حملہ آور اس آفت کا باہم مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔
بھارت: نئی دہلی کے اسپتال میں آکسیجن کی کمی سے 20 افراد ہلاک
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جے پور گولڈن اسپتال میں جمعے کی رات آکسیجن کی کمی کے باعث کرونا وائرس کے 20 مریض دم توڑ گئے۔
بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ کے مطابق اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ڈی کے بالوجہ کا کہنا تھا کہ جمعے کی رات کو ان کی آکسیجن کی سپلائی میں سات سے آٹھ گھنٹے کی تاخیر ہوئی اور انہیں جو اسٹاک ملا، وہ ان کی مطلوبہ آکسیجن کا صرف 40 فی صد تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق نئی دہلی میں قائم بٹرا اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سودہنشو بنکتا کا بھی کہنا تھا کہ شہر کے اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی ہے اور ان کے اسپتال میں بھی آکسیجن ختم ہو رہی ہے۔
بھارتی حکومت کی طرف سے آکسیجن کی فراہمی کے لیے خصوصی ٹرینیں اور ٹینکرز چلائے جا رہے ہیں۔ جب کہ ایئر فورس کے جہاز بھی اس مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
کرونا وائرس کی بدلتی اشکال میں ویکسین کتنی مؤثر؟
کرونا سے بچاؤ کی ویکسی نیشن مہم کے باوجود کئی ملکوں میں وائرس کی نئی اقسام سامنے آ رہی ہیں۔ ویکسین اور کووِڈ کی نئی اقسام کے درمیان دوڑ تیز ہو رہی ہے۔ وائرس کی بدلتی اشکال کے خلاف ویکسینز کے نتائج مختلف کیوں نظر آ رہے ہیں اور ان اقسام کے خلاف ویکسینز کتنی مؤثر ہیں؟ جانیے صبا شاہ خان سے۔