بھارت: کرونا ویکسین کی چوری اور معافی نامے کے ساتھ واپسی
بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں صورت حال بد ترین ہوتی جا رہی ہے اور ملک کو اس وقت ویکسین کی بھی قلت کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کرونا ویکسین چوری ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ چور نہ صرف چوری شدہ ویکسین واپس لوٹا گیا بلکہ اس کے ساتھ ایک معافی نامہ بھی چھوڑ گیا۔
جمعرات کو بھارت کی ریاست ہریانہ کے شہر جند کے سول اسپتال کے اسٹور روم سے سیکڑوں کرونا ویکسین کی خوراکیں چوری ہونے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔
’جند سول اسپتال‘ کی چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) ڈاکٹر بملہ راٹھی نے بتایا کہ جمعرات کی صبح جب عملہ ویکسی نیشن سینٹر پہنچا تو انہیں معلوم ہوا کہ اسٹور روم کے دروازے کا تالا ٹوٹا ہوا ہے۔
ان کے بقول اسٹور روم سے صرف کرونا وائرس کی ویکسین کی خوراکیں ہی غائب تھیں جب کہ وہاں پولیو اور تب دق کی 'بی سی جی' ویکسین کی خوراکیں اسی حالت میں موجود تھیں۔
کرونا ویکسین کی خوراکیں چوری ہونے کے چند گھنٹے گزرنے کے بعد چور نے جند کے سول لائنز پولیس اسٹیشن کے باہر چائے کی دکان پر موجود شخص کو ایک بیگ دیا جس میں ایک معافی نامہ بھی موجود تھا۔
چور چائے کی دکان کے باہر موجود شخص کو یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا کہ وہ پولیس کو کھانا دینے کے لیے آیا ہے اور اسے ایک اور کام سے جانا ہے۔
اس بیگ میں کرونا کی ویکسین 'کووی شیلڈ' اور 'کوویکس' کی خوراکیں موجود تھیں اور اس کے ساتھ ایک کاغذ پر لکھا ہوا معافی نامہ بھی تھا۔
پاکستان میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسی نیشن
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 60 سے زائد عمر کے افراد کسی بھی ویکسی نیشن سینٹر میں جاکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
ایک بیان میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ اتوار کو بھی ویکسی نیشن سینٹرز کھلے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 65 سال سے زائد عمر کی ویکسی نیشن کا عمل پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے۔
پاکستان میں کیسز مثبت آنے کی شرح 11 فی صد سے زائد
پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 11.27 فی صد ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 234 گھنٹوں میں 52 ہزار 402 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 11 فی صد سے زائد تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید پانچ ہزار 908 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 86 ہزار 529 ہو گئی ہے۔
زیرِ علاج افراد میں سے چار ہزار 682 انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
اسرائیل میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی
ایک طرف دنیا بھر میں کرونا کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو وہیں دوسری طرف اسرائیل میں وبا پر قابو پائے جانے کے بعد معمول کی سرگرمیاں بحال ہوتی جا رہی ہیں۔
اسرائیل میں گھروں سے باہر ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ معیشت بحال ہو چکی ہے۔ جب کہ اکثریتی ریستورانوں میں بکنگ کرانا مشکل ہو گیا ہے۔
اسکولوں میں بچوں کی واپسی ہو چکی ہے۔ تھیٹرز اور کھیلوں کے مقابلے دوبارہ سے شروع ہو چکے ہیں۔
تاہم اسرائیل میں ابھی بھی چند احتیاطی تدابیر اپنانا لازمی ہیں۔ جیسے کہ رش والی جگہوں پر ماسک کی پابندی، ان ڈور اور آؤٹ ڈور تقریبات میں گنجائش سے کم کی پابندی اور ویکسین کی سند شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق اسرائیلی عوام کے لیے یہ خوشی کا باعث ہے کہ وبا کے بعد معمول کی طرف لوٹنے والے دنیا کے چند پہلے ممالک میں اسرائیل بھی شامل ہے۔
اسرائیل میں میوزک کنسرٹس منعقد کرانے والی سوکھی ویس کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے دو ہفتوں کے دوران جتنے بھی شوز کا اعلان کیا ہے۔ ان کے ٹکٹس چار سے پانچ گھنٹوں میں فروخت ہو گئے ہیں۔
سوکھی کا مزید کہنا تھا کہ وبا کے بعد لوگ ایسے کنسرٹس دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔