بھارت: ویکسین کے لیے تمام نوجوانوں کی رجسٹریشن آج سے شروع ہو گی
بھارت کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ آج سے 18 سال سے زائد عمر کے افراد ویکسین لگوانے کے لیے خود کو رجسٹریشن کرا سکیں گے۔
تمام نوجوانوں کی رجسٹریشن کا آغاز شام چار بجے سے شروع ہو گا۔ شہری خود کو وزارتِ صحت کی جانب سے فراہم کردہ موبائل ایپلی کیشن یا سرکاری ویب سائٹ پر جا کر خود کو رجسٹر کرا سکیں گے۔
کیا ویکسین کرونا سے مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے؟
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔ تاہم ملک میں بہت سے لوگ ویکسین کی افادیت اور اس کے اثرات کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔
ویکسین سے متعلق عام تاثر پایا جاتا ہے کہ ویکسین آپ کو وبا سے 100 فی صد محفوظ رکھتی ہے جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
وائرس سے بچاؤ کے لیے پاکستان میں متعارف کرائی گئی ویکسین کتنی مؤثر ہے اور کیا واقعی اس کے منفی اثرات ہیں؟ اور کیا ویکسین لگوانے کے بعد کرونا نہیں ہوتا؟ ان سوالات اور کرونا ویکسین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کے جوابات جاننے کے لیے وائس آف امریکہ نے پنجاب میں کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کی رُکن ڈاکٹر صومیہ اقتدار سے گفتگو کی ہے۔
ڈاکٹر صومیہ اقتدار کا کہنا ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد بھی یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ دوبارہ انفیکشن نہیں ہو گا۔
بھارت میں ریکارڈ کیسز، مجموعی ہلاکتوں نے دو لاکھ کا ہندسہ عبور کر لیا
بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ریکارڈ کیسز اور اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق ایک روز کے دوران مزید تین لاکھ 60 ہزار 960 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ بھارت میں مسلسل ساتویں روز تین لاکھ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
عالمی وبا کے شکار مزید 3293 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ ایک روز کے دوران اموات کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے جس کے ساتھ ہی بھارت میں مجموعی ہلاکتوں نے دو لاکھ کا ہندسہ عبور کر لیا ہے۔
پہلی مرتبہ یومیہ ویکسین لگانے کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی، اسد عمر
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ منگل کو ملک بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ ویکسین لگائی گئی ہیں۔ ان کے بقول گزشتہ روز ایک لاکھ 17 ہزار 852 افراد کو ویکسین دی گئی ہے۔
اسد عمر کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اب تک 21 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر عوام سے اپیل کی کہ 40 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد کو رجسٹرڈ کرانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔