آسٹریلیا: ریاست ساؤتھ ویلز میں ایک ماہ سے زائد عرصے بعد کرونا کیس رپورٹ
آسٹریلیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں ایک ماہ سے زائد عرصے بعد مقامی سطح کا پہلا کرونا وائرس کا کیس سامنے آگیا۔
31 مارچ کے بعد سے ریاست میں پہلا کیس سامنے آنے پر صحت حکام اس کیس کا ذریعہ اور قسم معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ریاست کی وزارتِ صحت کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ 50 سال کے زائد عمر کے شخص کا بیرون ملک سے آئے افراد کے قرنطینہ کے لیے مختص ہوٹل سے بھی کوئی رابطے کا علم نہیں ہوا۔
وزارت کا کہنا تھا کہ نامعلوم شخص نے آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی اور مضافاتی علاقوں میں مختلف مقامات کا دورہ کیا تھا۔
امریکہ میں چار جولائی تک 70 فی صد شہریوں کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے چار جولائی تک 70 فی صد امریکیوں کو کووڈ ویکسین کی کم از کم ایک خوراک کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔ صدر بائیڈن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ ویکسین کی افادیت سے انکار کرنے والوں کو ویکسین لگوانے پر رضامند کیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں ویکسین کی وافر دستیابی یقینی بنانے کے باوجود ملکی سطح پر ویکسین کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے اور بہت سی ریاستوں نے اپنے لیے مختص ویکسین کے آرڈرز نہیں دیے۔
منگل کے روز صدر بائیڈن نے ایسی امریکی ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ویکسین کی دستیابی کو سہل بنائیں اور بنا پیشگی رجسٹریشن کے آنے والوں کو بھی ویکیسن مہیا کریں۔
صدر نے ادویات کی فروخت سے وابستہ فارمیسیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بغیر رجسٹریشن کے آنے والوں کو بھی ویکسین لگائیں۔ ان اقدامات کا مقصد ویکسین لگانے کے کام میں آسانی پیدا کرنا ہے، تاکہ یہ کام بہتر انداز سے انجام دیا جا سکے۔
ان کی انتظامیہ پہلی بار یہ بھی کوشش کر رہی ہے کہ جن ریاستوں میں ویکسین کی طلب کم ہے، وہاں سے ویکسین کی خوراکوں کو ان ریاستوں کی جانب منتقل کیا جائے جہاں طلب زیادہ ہے۔
امریکی مساجد میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ عبادات کا دوبارہ آغاز
امريکہ ميں بھی کرونا وائرس نے زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کيا ہے۔ گزشتہ برس کئی مساجد کرونا وبا کی وجہ سے بند کر دی گئی تھيں مگر اس سال ويکسي نيشن کے بعد لوگوں نے ماہ رمضان ميں ايک بار پھر مساجد کا رخ کيا ہے۔ مونا کاظم شاہ کی رپورٹ۔
جگمگاتی تقریبات سے خالی سڑکوں تک، ہالی وڈ فوٹو جرنلسٹ کی ڈائری سے ایک صفحہ
امریکہ پچھلے برس مارچ میں جب عالمی وبا سے متاثر ہونا شروع ہوا تو ایسوسی ایٹڈ پریس کے فوٹو جرنلسٹ کرس پزیلو کے پاس کام بالکل ختم ہو گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو عجیب و غریب حالات میں گھرا پایا. وہ انٹرٹینمنٹ سے محروم دور میں انٹرٹینمنٹ فوٹوگرافر تھے۔ ان کے مطابق، اس برس انہیں نت نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کرس پزیلو نے پچھلے ہفتے لاس اینجلس کے ایک یونین اسٹیشن میں منعقد ہونے والے آسکرز ایوارڈ کی تقریب کی کوریج بھی کی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے لکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہالی وڈ کی کرونا کی وجہ سے تبدیل ہو جانے والی دنیا میں ایک سال سے پہلے آخری معمول کی رات میں انہوں نے بس ایک جوڑے کو ہی ماسک پہنے دیکھا۔
انہوں نے لکھا کہ یہ اتنا انوکھا ضرور تھا کہ انہوں نے فوراً ہی اس کی تصویر بنا لی تھی۔ انہیں بالکل نہیں پتہ تھا کہ آگے چل کر سب کو ہی ایسے ماسک پہننے پڑیں گے۔