آئندہ دنوں میں پاکستان کے لیے کوویکس سے مزید ویکسین متوقع ہے، اقوامِ متحدہ
اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجرک نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں کوویکس کے تحت پاکستان میں کرونا ویکسین کی مزید 12 لاکھ خوراکوں کی آمد متوقع ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ایک جاری کردہ بیان کے مطابق ترجمان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان میں ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس کی سربراہی میں ہماری ٹیم موجود ہے اور انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ کوویکس سے 12 لاکھ خوراکوں کی پہلی کھیپ ہفتے کو پاکستان پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی ٹیم کوویکس کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ پاکستان کی 20 فی صد آبادی کے لیے ویکسین کی مناسب خوراکیں فراہم کی جاسکیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم پاکستانی فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی تربیت کے ساتھ ساتھ صحت کے مراکز میں پانی، صفائی کی دیکھ بھال وغیرہ میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
ان کے بقول ان کی ٹیم نے 10 لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرز اور پولیس افسران کو ذاتی تحفظ کا سامان (پی پی ایز) بھی فراہم کیا ہے۔
امریکہ: کرونا وبا میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ
امریکہ میں کرونا وبا کے دوران اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک ایسے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جن سے ان بچوں کی تعداد معلوم ہو سکے، لیکن اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایسے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو اپنی کلاسوں سے مسلسل غیر حاضر ہیں۔
امریکہ میں عالمی وبا کے دوران اسکولوں نے آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیم جاری رکھی۔ ایسے میں آن لائن کلاسز سے غیر حاضر رہنے والے بچوں کی تعداد کے مسلسل بڑھنے کے باعث اساتذہ اور اسکول انتظامیہ میں تشویش پھیل گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی اسکول ان بچوں کو واپس لانے کے لیے تمام کوششیں کر رہے ہیں۔ ان میں ان بچوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ڈھونڈنا، ان کے گھروں میں جانا اور اسکولوں کے اسٹاف کو ان بچوں کے ضائع ہونے والے وقت کو بچانے کے لیے خصوصی مدد کے لیے کہنا شامل ہے۔
اسکولوں کا کہنا ہے کہ پچھلے برس اسکول چھوڑنے والے بچوں کے اعداد و شمار ابھی موجود نہیں ہیں۔ کچھ اسکول حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ جو بچے گھر سے پڑھنے کے دوران لاگ آن نہیں کر رہے، وہ اسکول چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
بھارتی نژاد امریکی کرونا بحران سے نمٹنے کے لیے اپنا حصہ ڈالنے لگے
بھارت میں کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں مدد کیلئے، امریکہ بھر میں ہندو، مسلمان اور سکھوں کی امدادی تنظیمیں متحرک ہو چکی ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والے ملک بھارت میں عالمی وبا کسی طور قابو میں نہیں آ رہی۔
خبر رساں ادارے، ایسو سی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق، امریکہ میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلے بھارتی باشندے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، سینکڑوں کی تعداد میں آکسیجن کنسنٹریٹر اور الیکٹریکل ٹرانسفارمر بھارت بھجوا رہے ہیں۔
انہوں نے لاکھوں ڈالر جمع کئے ہیں، تاکہ خوراک اور چتا جلانے کیلئے لکڑی خریدی جا سکے، اور یہاں اپنے اپنے عقیدے کے مطابق دعائیں بھی کر رہے ہیں، تاکہ بھارت میں رہنے والوں کی روحانی مدد بھی ہو سکے۔
کیلیفورنیا میں قائم انڈین مسلم ریلیف اینڈ چیریٹیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر منظور غوری کا کہنا ہے کہ یہ ایک انسانی المیہ ہے۔ اس تنظیم نے اب تک ایک ملین ڈالر کا عطیہ دیا ہے جس میں خاندانوں کیلئے ہزاروں کی تعداد میں میڈیکل کٹ اور 300,000 سے زیادہ کھانے شامل ہیں۔
بھارت: کرونا وبا سے بچنے کے لیے گائے کے گوبر کا ’اشنان‘
بھارت ایک جانب جہاں کرونا وائرس سے شدید متاثر ہے۔ وہیں مختلف اعتقاد کے افراد اس سے بچنے کے لیے طرح طرح کے طریقے اپنا رہے ہیں جن میں سے بعض کو طبی ماہرین مضرِ صحت یا مزید بیماریوں کا سبب قرار دے رہے ہیں۔
ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں بہت سے افراد گائے کے فضلے یعنی گوبر کو اپنے پورے جسم پر لگا کر اسے تحفظ کا ذریعہ مان رہے ہیں۔ البتہ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے کوئی بھی سائنسی شواہد موجود نہیں ہے کہ گائے کا گوبر انسان کو وبا سے محفوظ رکھتا ہو۔ البتہ اس کو جسم پر لگانے سے مزید کئی بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت میں کرونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور اب تک دو کروڑ 26 لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں جب کہ لگ بھگ دو لاکھ 45 ہزار اموات ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ماہرین یہ اندیشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ بھارت میں کرونا کے اصل اعداد و شمار پیش کیے جانے والے نمبروں سے کئی گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔
بھارت کی زیادہ متاثرہ ریاستوں میں کرونا متاثرین کی تعداد کے باعث اسپتالوں میں جگہ ختم ہو چکی ہے۔ جب کہ آکسیجن اور ادویات کی قلت کے باعث متاثرہ افراد علاج سے قبل کی ہلاک ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔