بھارت میں کرونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کو ’بلیک فنگس‘ کا خطرہ
بھارت میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کو اب ایک نئی بیماری کے خطرے کا سامنا ہے۔ یہ نئی بیماری ’بلیک فنگس‘ یا سیاہ پھپھوند ہے، جسے انگریزی میں ’میوکرمائکوسس‘ کہتے ہیں۔
حکومت نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ اسپتالوں میں چوں کہ زیرِ علاج کرونا مریضوں میں بلیک فنگس کی علامات کے واقعات سامنے آئے ہیں، اس لیے وہ اس پر نظر رکھیں۔ یہ بیماری یوں تو شاذ و نادر ہوتی ہے، لیکن اس میں مریضوں کی موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔
حکومت کے ادارے ’انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ‘ (آئی سی ایم آر) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر جو کرونا، ذیابیطس یا مدافعتی نظام کے کمزور پڑ جانے والے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں، وہ بلیک فنگس کی ابتدائی علامات، جیسے کہ "سائنس" میں درد یا ناک کے ایک طرف کے بند ہو جانے، نصف سر میں درد، چہرے پر سوجن یا سُن ہو جانے یا دانتوں میں درد پر نظر رکھیں۔
رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں ایسے افراد بلیک فنگس کا شکار ہو رہے ہیں جو کرونا سے صحت یاب ہو چکے تھے۔ اس بیماری کی وجہ سے لوگوں کی بینائی ختم ہو جاتی ہے اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوتی ہیں، جس کے سبب ان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔
کرونا کی بھارتی قسم 44 ممالک میں پائی گئی ہے، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا کے درجنوں ممالک میں بھارت میں پائے جانے والی کرونا وائرس کی قسم پائی گئی ہے۔
وبائی امراض پر بدھ کو جاری ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی قسم B.1.617 سب سے پہلے اکتوبر میں بھارت میں پائی گئی تھی اور اب ڈبلیو ایچ او کے تمام چھ ریجنز کے 44 ممالک کے چار ہزار پانچ سو سے زائد نمونوں میں اس قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔
ادارے کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کو دنیا کے دیگر پانچ ممالک سے بھی وائرس کے پائے جانے کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت نے پیر کو بھارت میں پائی جانے والی قسم کو عالمی تشویش کا باعث بھی قرار دیا تھا۔
16 مئی سے 30 سال اور زائد کی عمر کے افراد کی ویکسین رجسٹریشن شروع ہو جائے گی، اسد عمر
پاکستان کے وزیرِ ترقی و منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ 16 مئی سے 30 سال اور اس سے زائد افراد کی ویکسین رجسٹریشن کا آغاز کردیا جائے گا۔
اسد عمر نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ویکسین کی سپلائی میں بہتری کے ساتھ ہی وفاقی اکائیوں میں ویکسین کی استعداد کار بڑھ رہی ہے۔
پاکستان: مثبت کیسز کی شرح آٹھ اعشاریہ ایک نو فی صد
پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر کے دوران مزید 48 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں دو ہزار 517 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 30 ہزار 700 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے جس میں مثبت کیسز کی شرح آٹھ اعشاریہ ایک نو فی صد رہی۔