بھارت میں کرونا کے تین لاکھ 43 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ
بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 43 ہزار 144 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ملک میں مزید چار ہزار افراد کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئے جس کے بعد اموات کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارت میں کرونا وائرس انفیکشنز اور اموات کی تعداد بلند سطح پر برقرار ہے جس سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت پر اس دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے سب سے گنجان آباد ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کریں۔
ویکسین کی دونوں خوراک حاصل کرنے والے امریکیوں کو ماسک کی ضرورت نہیں: صدر بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی جنہیں ویکسین لگ چکی ہے، ان میں سے زیادہ تر کو اب ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر کسی نے ویکسین نہیں لگوائی، تو اسے ہر صورت میں ماسک پہننا ہو گا۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ یہ اعلان وبائی امراض کے کنٹرول سےمتعلق ادارے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی سفارش کے بعد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کیلئے یہ ایک اچھا دن ہے۔
صدر بائیڈن نے کہا کہ سی ڈی سی نے سفارش کی ہے کہ امریکی نہ صرف کھلی بلکہ بند جگہوں پر یا اجتماعات میں بھی بغیر ماسک پہنے جا سکتے ہیں۔ نائب صدر کاملا ہیرس بھی اس پریس کانفرنس کے دوران صدر کےہمراہ موجود تھیں۔ دونوں نے ماسک نہیں پہنا ہوا تھا۔
خیال ہے کہ صدر بائیڈن کے اس اعلان کے بعد معمول کی زندگی کی جانب لوٹنے کا راستہ ہموار ہونا شروع ہو جائے گا۔
بھارت میں تین لاکھ 43 ہزار سے زائد نئے کیسز, مزید چار ہزار اموات
بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 43 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
ملک میں مزید چار ہزار افراد کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئے جس کے بعد اموات کی تعداد دو لاکھ 62 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارت میں کرونا وائرس انفیکشنز اور اموات کی تعداد بلند سطح پر برقرار ہے جس سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ دنیا کے دوسرے سب سے گنجان آباد ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کریں۔
کرونا بحران اور ٹیلی ورکنگ، امریکیوں کی بڑے شہروں سے ہجرت میں اضافہ
امریکی محکمہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق کرونا کی عالمی وبا کے دوران ہزاروں امریکیوں نے پرہجوم اور بڑے شہروں کو چھوڑ کر چھوٹے شہروں یا دیہاتوں میں سکونت اختیار کر لی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، ان افراد نے یہ نقل مکانی نہ ہی ملازمتوں کے نئے مواقع کی وجہ سے اختیار کی ہے اور نہ ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے، بلکہ اس نقل مکانی کی وجہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے اور وبا کے دوران گھر سے کام کرنے کی خواہش ہے۔
وینڈربلٹ یونی ورسٹی کے محقق پیٹر ہیس لیگ نے جارجیا ٹیک یونیورسٹی کے ڈینئیل ویگلے کے ساتھ مل کر لوگوں کی نقل مکانی کی وجوہات پر تحقیق کی ہے۔ ان کی تحقیق کی اشاعت ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ لیکن خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ کافی عرصے سے بڑے شہروں سے نکل کر چھوٹے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ لیکن وبا کے دوران اس رجحان میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے دفاتر میں گھر سے کام کرنے کی ہدایات آئیں تو واشنگٹن ڈی سی میں مقیم سی سی لنڈر اپنے 770 مربع فٹ کے اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھیں۔