’اموات جاری کردہ اعداد و شمار سے زیادہ ہوسکتی ہیں‘
عالمی ادارہٴ صحت کے کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد اس کے اپنے جاری کردہ اعداد و شمار سے دو یا تین گنا زیادہ ہوسکتی ہیں۔
جمعے کو عالمی ادارہٴ صحت کے اعداد و شمار سے متعلق شعبے کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیرا اسما نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد دو سے تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
ان کے بقول ’ محتاط اندازے کے مطابق کرونا سے ہونے والی ہلاکتیں 60 سے 80 لاکھ تک ہو سکتی ہیں۔
عالمی ادارہٴ صحت کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں کرونا سے تقریباً 34 لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پاکستان میں اموات 20 ہزار سے متجاوز، 63 ہزار افراد زیرِ علاج
پاکستان میں کرونا سے متاثرہ زیرِ علاج افراد کی تعداد 63 ہزار 436 ہو گئی ہے۔ ایک ماہ قبل یہ تعداد 85 ہزار تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید چار ہزار افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔ یوں مجموعی طور پر متاثرہ افراد کی تعداد آٹھ لاکھ 97 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے آٹھ لاکھ 13 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 20 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔
زیرِ علاج افراد میں سے چار ہزار 412 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
امارات اور سعودی عرب سے پشاور آنے والے مسافر وبا سے متاثر
متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی اور سعودی عرب کے شہر ریاض سے پشاور پہنچنے والے چھ مسافروں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
ابوظہبی سے پہنچنے والے پانچ جب کہ ریاض سے آنے والے ایک مسافر کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی گئی ہے۔
مسافر ایک ہی پرواز سے پشاور پہنچے تھے۔ اس جہاز میں 153 مسافر سوار تھے جن کے پشاور ایئر پورٹ پر ریپڈ ٹیسٹ کیے گئے۔
ایئر پورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کرونا متاثرہ مسافروں کو قرنطینہ کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کرونا مریضوں کے لیے درکار آکسیجن بنتی کیسے ہے؟
پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں کرونا وبا کے بحران کے زور پکڑ جانے کے بعد میڈیکل آکسیجن کی قلت ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔ کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران پاکستان میں بھی کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر کرونا کا پھیلاؤ ایسے ہی جاری رہا تو پاکستان میں بھی آکسیجن کی قلت ہو سکتی ہے۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے نوید نسیم بتا رہے ہیں کہ کرونا وبا سے شدید متاثرہ مریضوں کے لیے درکار میڈیکل آکسیجن بنتی کیسے ہے اور اس وقت پاکستان میں اس کی سپلائی اور ڈیمانڈ میں کتنا فرق ہے۔