کرونا 'لیب لیک' نظریے پر چین کا احتجاج، امریکہ پر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام
چین نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے، جن میں کرونا وائرس کے کسی لیبارٹری سے لیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
چین نے ایسی میڈیا رپورٹس کی وجہ سے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کرونا وائرس کی عالمی وبا کی ابتدا سے متعلق معاملے کو سیاسی رنگ دے رہا ہے اور امریکہ کو چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنی چاہئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ بات جمعے کے روز چینی خارجہ پالیسی کے ایک سینئیر مشیر یانگ جی ایچی اور امریکی خارجہ سیکرٹری اینٹنی بلنکن کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد سامنے آئی ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، بات چیت کے دوران دونوں ممالک میں ہانگ کانگ میں آزادیوں کو محدود کرنے اور شمال مغربی چینی صوبے سنکیانگ میں ویغور مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر حراست میں لیے جانے جیسے معاملات پر اختلاف رائے ابھر کر سامنے آیا۔
کرونا وائرس کی وبا کی ابتدا سے متعلق مزید تحقیقات کے مطالبات، چین کے لیے اس لیے باعث تشویش ہیں کہ پہلے ہی خیال کیا جاتا ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا چین میں ووہان میں واقع لیبارٹری سے لیک ہونے سے ہوئی ہے۔ ایسی رپورٹوں پر چین کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
بھارت: ڈھائی ماہ بعد کم ترین کیسز
بھارت میں منگل کو ڈھائی ماہ بعد کرونا کے کم ترین کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران 60 ہزار 471 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مثبت کیسز کی شرح تین اعشاریہ چار پانچ فی صد ریکارڈ کی گئی ہے، جب کہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو ہزار 726 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں۔
پاکستان میں 838 نئے کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 ہزار 39 ٹیسٹ کیے گئے، جس میں سے 838 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ تین نو فی صد ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا سے مزید 59 افراد کی ہلاکتیں سامنے آئی ہیں۔
ملک میں کرونا سے اب تک نو لاکھ 43 ہزار 27 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جب کہ وائرس سے ہونے والی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار 782 ہے۔
'کرونا کیسز میں کمی خوش آئند ہے، لیکن ہلاکتوں میں اتنی تیزی سے کمی نہیں ہو رہی'
صحت کے عالمی ادارے (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ متواتر سات ہفتوں سے کووڈ 19 کے نئے کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، لیکن افریقہ میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔
جنیوا میں ادارے کے صدر دفتر سے پیر کو جاری بیان میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبراسس نے کہا کہ نئے کیسز میں مجموعی کمی یقینی طور پر ایک خوش آئند خبر ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ہلاکتوں میں اتنی تیزی سے کمی واقع نہیں ہو رہی ہے۔ البتہ، اس میں گزشتہ ہفتے معمولی کمی ضرور دکھائی دی ہے۔
ٹیڈروس نے کہا کہ کرونا کیسز میں کمی کا معاملہ ابھی واضح نہیں چوں کہ افریقہ جیسے علاقوں میں یہ وبا پھیل رہی ہے اور ہلاکتیں بھی واقع ہو رہی ہیں؛ جہاں ویکسین، علاج، آکسیجن اور تشخیصی آلات تک رسائی محدود ہے۔
انہوں نے برطانوی طبی جریدے 'دی لینست' میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مطالعے کا حوالہ دیا، جس سے پتا چلتا ہے کہ عالمی سطح پر افریقہ میں کووڈ 19 کے ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے جو شدید بیمار ہیں اور جہاں زیادہ ہلاکتیں ہو رہی ہیں، حالاں کہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں یہاں کے مصدقہ کیسز کی تعداد کم رپورٹ ہوتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بتایا کہ دستیاب ثبوت سے پتا چلتا ہے کہ نئے ویرینٹس کے سبب وبا کے عالمی پھیلاؤ میں خاصہ اضافہ ہوا ہے؛ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ویکسی نیشن کا تناسب نسبتاً کم ہے اور ان افراد کے لیے خطرات زیادہ ہیں جنھیں ویکسین نہیں لگی۔