امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ سفری پابندیوں میں ایک ماہ کی توسیع کردی
امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ زمینی سرحد کو غیر ضروری سفر کے لیے مزید ایک ماہ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کے ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے اتوار کو کہا کہ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ سرحد غیرضروری سفر کے لیے 21 جولائی تک بند رہے گی۔
کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث مارچ 2020 میں سرحد کو بند کیا گیا تھا اور اس بندش کی مدت پیر کو ختم ہونا تھی۔
البتہ کینیڈا جس نے امریکہ کے ساتھ اپنی سرحد کو بند کر رکھا ہے اس نے جمعے کو اس بندش میں توسیع کردی تھی، بعد ازاں امریکہ کی جانب سے 30 روزہ توسیع کا اعلان سامنے آیا ہے۔
امریکی حکام نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ امریکی حکومت نے سفری پابندیوں پر کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ گزشتہ ہفتے ملاقاتیں کی تھیں اور ہر دو ہفتے بعد مزید ملاقاتوں کا ارادہ بھی ہے۔
بھارت میں کرونا کیسز کی تعداد تین کروڑ کے قریب
بھارت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت کم ہو رہی ہے۔ ملک میں مزید 53 ہزار 256 افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں کرونا کے مجموعی کیسز کی تعداد دو کروڑ 99 لاکھ 35 ہزار 221 ہے۔ البتہ 96 فی صد مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
عالمی وبا سے بھارت میں تین لاکھ 88 ہزار 135 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ان ہلاکتوں میں ایک ہزار 422 مریضوں کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
بھارت: ڈیلٹا پلس ویرینٹ نیا خطرہ بن گیا
بھارت میں عالمی وبا کرونا وائرس کی دوسری لہر کا زور اب ٹوٹ رہا ہے لیکن ’ڈیلٹا پلس‘ نامی ایک نئے ویرینٹ نے حکومت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 50 ہزار 848 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ وائرس سے مزید ایک ہزار 358 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت میں پہلی مرتبہ تشخیص ہونے والا ’ڈیلٹا‘ ویرینٹ ملک میں کرونا کی دوسری لہر کا سبب بنا تھا لیکن اب وائرس کی اس قسم نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے جسے ’ڈیلٹا پلس‘ کا نام دیا گیا ہے۔
کرونا کے ’ڈیلٹا پلس‘ ویرینٹ سے متعلق اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نئی قسم تیسری لہر کا سبب بن سکتی ہے۔
بھارت کی مرکزی وزارتِ صحت نے اس نئی قسم کو ’ویرینٹ آف کنسرنز‘ یعنی تشویش والے زمرے میں رکھا ہے۔
دو اینٹی باڈیز کے امتزاج سے بننے والی دوا کرونا کی مختلف اقسام کے خلاف مؤثر: تحقیق
ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو اینٹی باڈیز کے امتزاج سے بننے والی دوا کرونا وائرس کی مختلف اقسام کے خلاف مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
عالمی وبا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سائنس دانوں کی جانب سے اس کے علاج سے متعلق متعدد تحقیقات کی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی ویکسین تیار ہونے سے قبل وائرس کے علاج کے لیے 'اینٹی باڈی' کا استعمال بھی کیا جاتا تھا۔
اینٹی باڈی دراصل انسان کے جسم کے مدافعتی نظام کا ایک حصہ ہے جس کا کام جسم میں داخل ہونے والے وائرس کو ناکارہ بنانا ہے۔
برطانوی جرنل ’نیچر‘ میں 21 جون کو واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسنز کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق شائع ہوئی ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسی ادویات جو دو اینٹی باڈیز کے امتزاج سے تیار کی گئی تھیں ان میں سے ایک اینٹی باڈی کے وائرس کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت کھو دینے کے باوجود بھی، یہ تھراپی مختلف ویرینٹس کے خلاف طاقت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئیں۔