رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:24 27.6.2021

کرونا کے ’ڈیلٹا ویرینٹ‘ کے سبب آسٹریلیا، نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

دنیا بھر میں کرونا ویکسی نیشن کی مہم میں تیزی کی وجہ سے متعدد ممالک میں پابندیوں میں نرمی کی گئی تاہم اب کرونا وائرس کے ’ڈیلٹا ویرینٹ‘ کے سبب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک میں دوبارہ سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

کرونا وائرس کی مہلک قسم ڈیلٹا ویرینٹ کی وجہ سے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بنگلادیش اور اسرائیل سمیت پرتگال کے چند حصوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور شہریوں کو عوامی مقامات پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہفتے کے روز سے دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔

سڈنی میں گزشتہ برس دسمبر کے بعد سے اب کرونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کی وجہ سے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے جب کہ آسٹریلیا کہ سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے علاقوں میں بھی شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

آسٹریلیا میں کرونا کیسز میں اضافے کے سبب نیوزی لینڈ نے بھی دونوں ممالک کے درمیان قرنطینہ کے بغیر سفر کرنے کو تین روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔

دوسری جانب بنگلادیش میں بھی ایک ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے اور شہریوں کو صرف طبی ضرورتوں کی بنیاد پر گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہے۔

روس میں بھی کرونا کیسز میں تیزی سے اضافے کا سبب ڈیلٹا ویرینٹ کو سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیے:

16:26 27.6.2021

وبائی امراض کو پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

جب کرونا وائرس کی عالمی وبا پھیلی تو دنیا اس سے نمٹنے کے لیے تیار نہيں تھی۔ ماہرينِ صحت کہتے ہيں کہ مستقبل میں ایک اور عالمی وبا کا امکان بھی موجود ہے۔ لیکن اگر کچھ بنیادی اصول پہلے ہی اپنا لیے جائیں تو ضروری نہيں کہ اگلی وبا بھی کووڈ جتنی مہلک ہو۔ مزید دیکھیے اس ہفتے کے 'لائف تھری سکسٹی' میں۔

وبائی امراض کو پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:21 0:00

16:39 27.6.2021

کیا کرونا وبا نے ہمارے رہن سہن اور طرزِ خریداری کو مستقل طور پر بدل دیا ہے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سن 2019 کے اواخر میں چین سے پھوٹنے والی کرونا وبا کے بعد پوری دنیا میں لوگوں کے رہن سہن اور طرزِ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض تبدیلیاں کاروبار اور زندگی کو مستقل طور پر متاثر کریں گی تاہم اکثر تبدیلیاں مستقل ثابت نہیں ہوں گی۔

کرونا وبا کے دوران وبا سے بچنے کے لیے لوگوں نے گھروں سے دفتری امور سر انجام دینا، آن لائن پڑھائی اور شاپنگ جب کہ وائرس کے خوف سے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیا۔

لیکن کیا وبا کی وجہ سے ہمارے طرزِ زندگی میں رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں مستقل طور پر اسی طرح رہیں گی؟

یونی ورسٹی آف شکاگو کے بوتھ اسکول آف بزنس کی کلینیکل پروفیسر جیمز اسکریجر نے وائس آف امریکہ کو ایک ای میل کے ذریعے بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ وبا سے ہونے والی تبدیلیاں مستقل ہوں گی۔

مزید پڑھیے:

17:04 27.6.2021

بھارت: وزیراعظم نریندر مودی کی شہریوں سے جلد از جلد ویکسین لگوانے کی اپیل

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارتی وزیراعظم نے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں اپیل کی ہے کہ شہری سماجی دوری اختیار کریں اور فیس ماسک پہنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی بہترین احتیاط ہے اور اس کے بارے میں سوچیں۔

نریندر مودی کا ورچوئل میٹنگ میں کمیونٹی رہنماؤں سے کہنا تھا کہ وہ دیہاتیوں میں ویکسین کی افادیت سے متعلق معلومات پھیلائیں اور ویکسین کے سائیڈ ایفیکیٹس کے بارے میں افواہوں کو ختم کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت ویکسین لگانے کا یومیہ ہدف ایک کروڑ پورا کرے تاکہ رواں سال دسمبر تک اٹھارہ سال سے زائد عمر والے تمام افراد کو ویکسین لگا دی جائے۔

تاہم بھارت میں اب تک صرف چھ فی صد سے کم افراد کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت کی چند ریاستوں میں کرونا وائرس کے ڈیلٹا ویرینٹ کی تشخیص پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔

وزارت صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 50 ہزار سے زائد نئے کیسز اور ایک ہزار 258 اموات رپورٹ کی گئیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG