وبائی امراض کو پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟
جب کرونا وائرس کی عالمی وبا پھیلی تو دنیا اس سے نمٹنے کے لیے تیار نہيں تھی۔ ماہرينِ صحت کہتے ہيں کہ مستقبل میں ایک اور عالمی وبا کا امکان بھی موجود ہے۔ لیکن اگر کچھ بنیادی اصول پہلے ہی اپنا لیے جائیں تو ضروری نہيں کہ اگلی وبا بھی کووڈ جتنی مہلک ہو۔ مزید دیکھیے اس ہفتے کے 'لائف تھری سکسٹی' میں۔
امریکہ میں فضائی سفر پہلی بار عالمی وبا سے پہلے کی سطح پر واپس آگیا
امریکہ میں مارچ 2020 میں کرونا وبا کے پھوٹنے کے بعد ہوائی سفر اب بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جو عالمی وبا سے پہلے کے معمول کے قریب تر ہے۔
امریکی ادارے ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایسوسی ایشن کے مطابق جون کے مہینے میں کئی بار بیس لاکھ سے زائد لوگوں نے امریکی ایئر پورٹ سے ہوائی سفر کیا۔
ٹی ایس اے کی ترجمان لیزا فاربسٹائن کے مطابق گزشتہ اتوار یعنی 27جون کو ادارے نے 2,167,380 یعنی 21 لاکھ سے زیادہ مسافروں کو امریکہ بھر کے ایئر پورٹس پر سفر سے پہلے سکرین کیا۔
ترجما ن نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ عالمی وبا کے گزشتہ سال پھیلنے کے بعد ہوائی سفر کرنے والوں کی ایک دن میں یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
یاد رہے کہ مارچ 2020 میں کروناوائرس کے پھیلاو کے باعث امریکہ میں پچھلے سال اپریل میں ایک دن ایسا بھی آیا جب ملک بھر میں ایک لاکھ سے کم لوگوں نے ہوائی جہازوں سے سفر کیا۔
پاکستان میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح دو فی صد سے کم ہو گئی
پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح دو فی صد سے کم ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 41 ہزار 133 ٹیسٹ کیے گئے جن میں تصدیق ہوئی کہ مزید 735 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
یوں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 1.78 فی صد ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 10 فی صد سے بھی بلند ہو گئی تھی۔
پاکستان میں مزید 23 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وبا سے مزید 23 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی اموات سمیت مجموعی طور پر کرونا وائرس سے اب تک 22 ہزار 254 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز تک ملک بھر میں یومیہ اوسطاََ 70 سے 80 افراد ہلاک ہو رہے تھے۔ البتہ دو ہفتے قبل اموات کی شرح میں کمی آئی ہے۔