رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

15:41 4.7.2021

پاکستان میں کرونا سے مزید 29 اموات، 1228 نئے کیس

پاکستان میں کرونا وبا کے نگراں ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا کہنا ہے کہ اتوار کو ملک میں کرونا کے مزید 1228 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد نو لاکھ 62 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

این سی او سی کے مطابق پاکستان میں 1875 مریض انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں زیرِ علاج ہیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 897 مریض کرونا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں کرونا سے اب تک مجموعی طور پر 22 ہزار 408 اموات ہو چکی ہیں۔

15:54 4.7.2021

ڈیلٹا ویرینٹ کے باعث ایران میں وائرس کی نئی لہر کا خدشہ

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے ڈیلٹا ویرینٹ کے باعث ملک میں وائرس کی پانچویں لہر کا خطرہ ہے۔

حکام کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر دارالحکومت تہران سمیت ملک کے 275 شہروں میں غیر ضروری کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ہفتے کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے کہ وائرس کی پانچویں لہر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ لہذٰا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔

ایران میں اب تک کرونا سے 84 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

10:54 5.7.2021

کرونا کے دور میں امریکہ میں یومِ آزادی، ویکسی نیشن کے باوجود چیلنجز برقرار

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کو ابھی بھی عالمی وبا کرونا کے خلاف جنگ میں کئی چیلنجز درپیش ہیں لیکن گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال امریکی عوام کہیں زیادہ اُمید افزا ماحول میں جشنِ آزادی منا رہے ہیں۔

ایک سال قبل اسپتالوں میں مریضوں کا رش، مختلف ریاستوں میں پابندیاں، ہزاروں اموات اور ویکسین کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال میں گھرے امریکیوں کے لیے رواں سال یومِ آزادی قدرے بہتر وقت کی اُمید لے کر آیا ہے۔

امریکہ میں کروڑوں افراد کو ویکسین لگا دی گئی ہے جب کہ وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے باعث لوگ بتدریج معمول کی زندگی کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔

ماہرین کی نظر میں پر امید ماحول کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں جن میں امریکی عوام کو ویکسین کی دستیابی ایک اہم ترین وجہ ہے جب کہ طبی عملے کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے اب تجربہ بھی ہو چکا ہے۔

اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے وینڈربلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں متعدی امراض کے پروفیسر ڈاکٹر ولیم شیفر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن اب وائرس کی 'ڈیلٹا' قسم ویکسین نہ لگوانے والوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

مزید پڑھیے:

11:22 5.7.2021

امریکہ میں نوکریاں زیادہ اور امیدوار کم، وجہ کیا ہے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وبا کی بندشوں کے بعد معاشی سرگرمیوں کی بحالی سے امریکہ میں روزگار کے مواقعوں کی بہتات ہے لیکن شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ بے روزگار افراد ملازمت کے حصول کے لیے پہلے جیسی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔

کئی ایسے افراد جو برسرِ روزگار نہیں وہ بھی پہلے سے زیادہ تنخواہوں کے خواہش مند ہیں یا کرونا وبا سے متاثر ہونے کے خدشے کے پیشِ نظر عوامی خدمات کی کمپنیوں میں کام کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

یہ دونوں رجحانات کس طرح ایک دوسرے کو متوازن کرتے ہیں، آئندہ مہینوں میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں سے اس کی رفتار کا تعین ہوگا۔

رواں برس جون میں امریکہ میں بے روزگاری کی شرح مئی کے مقابلے میں کم ہونے کی توقع کی جارہی تھی۔ مئی میں یہ شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فی صد تھی جب کہ جون میں یہ پانچ اعشاریہ سات فی صدر رہی۔

لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں امریکہ میں ملازمت کے لیے خالی آسامیوں کی تعداد 93 لاکھ تک پہنچ گئی تھی جو کہ گزشتہ بیس برسوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ایمپلائمنٹ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ملازمتوں کے اعلانات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

مزید پڑھیے:

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG