کرونا وبا: کیا ویکسین کے بعد بھی احتیاط ضروری ہے؟
دنیا بھر میں کرونا کی ڈیلٹا قسم کی وجہ سے کرونا کیسز میں پھر سے اضافہ ہو رہا ہے۔
کیا دستیاب ویکسین اس کے خلاف بھی کارگر ہیں؟ جاننے کے لیے وائس آف امریکہ کی ندا فاطمہ سمیر نے بات کی متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر فہیم یونس سے۔
آسٹریلیا میں کیسز بڑھنے کے سبب لاک ڈاؤن میں اضافہ کا اندیشہ
آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں ہفتے کو رواں سال میں کرونا وائرس کے ریکارڈ یومیہ کیسز رپورٹ کیے گئے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ سڈنی میں وبا کا عروج ابھی آنا ہے جہاں پہلے ہی تین ہفتوں کا سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے۔
آسٹریلیا کی سب سے گنجان آباد ریاست ساؤتھ ویلز میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس کے مزید 50 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد کرونا وائرس کی قسم ڈیلٹا سے متاثرہ افراد کی تعداد 489 ہو گئی ہے۔
ہفتے کو جن 26 افراد میں وبا کی تشخیص کی گئی۔ انہوں نے وبا سے متاثر ہونے کے باوجود کمیونٹی میں وقت گزارا تھا جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نافذ کردہ لاک ڈاؤن میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
آسٹریلیا وبا پر قابو پانے والے دیگر کئی ممالک سے بہتر سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ویکسین لگانے کا عمل ویکسین کی فراہمی اور کرونا ویکسین ‘ایسٹرا زینیکا’ سے متعلق ہدایات میں تبدیلی کے باعث سست روی کا شکار ہے۔
کرونا وبا میں گھر بیٹھنے سے بڑھنے والا وزن کم کیسے ہو؟
دنیا بھر میں کرونا وائرس نے لوگوں کے طرزِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں گھر بیٹھے بہت سے لوگ وزن بڑھنے کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اپنی جسمانی صحت کا خیال کیسے رکھا جائے؟ جانتے ہیں صبا شاہ خان سے 'لائف تھری سکسٹی' میں۔
بینکاک میں رات کو سات گھنٹوں کا کرفیو نافذ
تھائی لینڈ میں حکام نے کرونا کیسز میں اضافے کے پیش نظر دارالحکومت بینکاک اور متصل صوبوں میں رات کے اوقات میں سات گھنٹوں کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
تھائی لینڈ میں وبا پر نظر رکھنے والے ادارے ‘سی سی ایس اے’ کے ترجمان ناتاپانو نوپاکن کا ٹی وی پر خطاب میں کہنا تھا کہ کرفیو رات نو بجے سے چار بجے تک نافذ رہے گا۔ جس کا آغاز آئندہ ہفتے پیر سے ہو گا۔
کرفیو کے دوران ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس بند رہیں گے جب کہ ضروری اشیا کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
حکام کی طرف سے لوگوں کو تلقین کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے کام کریں اور صرف ضروری کاموں کے لیے گھروں سے نکلیں۔
علاوہ ازیں پانچ افراد سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جب کہ غیر ضروری سفر کرنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔